گلشن احمد — Page 50
98 97 1984ء میں حکومت نے بدنام زمانہ آرڈی نینس جاری کیا جس کی موجودگی میں خلیفہ وقت کے لئے پاکستان میں رہ کر دینِ حق کی اشاعت کا کام ناممکن ہو گیا۔حضرت صاحب نے 30 اپریل 1984ء کو پاکستان سے ہجرت فرمائی۔اس ہجرت میں اللہ تبارک تعالیٰ کی غیر معمولی مدد شامل حال رہی۔رسل و رسائل کی وسیع تر اور آسان تر سہولتوں سے دعوت الی اللہ کے کام میں یکدم تیزی پیدا ہوئی۔یورپ اور دوسرے ملکوں کے دعوت الی اللہ مراکز کے کاموں میں غیر معمولی ترقی ہوئی۔جلسہ لندن کو خلیفہ وقت کی موجودگی سے مرکزی اہمیت حاصل ہوئی۔ایم ٹی اے کے ذریعہ دنیا بھر میں اشاعت و دعوت کا ایسا سلسلہ شروع ہوا۔جس کی دنیا میں پہلے کوئی مثال نہیں ملتی۔عالمی بیعت کے نئے ریکارڈ قائم ہوئے اور محیر العقول کارناموں اور کامیابیوں کا یہ سلسلہ برابر جاری رہا۔10 جون 1988ء کو آپ نے اللہ تعالیٰ کے حضور عاجزانہ دعاؤں کے ساتھ آئمۃ الکفر کو مباہلے کا چیلنج دیا اور انصاف اللہ تعالیٰ پر چھوڑ دیا۔اس مباہلے کے جو نتائج فوری طور پر سامنے آئے۔ان میں سے ایک شخص اسلم قریشی کا ظاہر ہونا تھا اس شخص کو ایک سکیم کے تحت چھپا دیا گیا تھا اور مشہور کیا گیا تھا کہ اس کو پیغام دور و نزدیک ہر طبقہ فکر تک وسیع پیمانے پر پہنچا اس موقع پر آپ کی طرف سے خصوصی پیغام خوبصورتی سے شائع کر کے تقسیم کیا گیا۔ایم ٹی اے نے احمدیت کی ترقی میں نمایاں کردار ادا کیا۔اور خلیفہ وقت سے دور مہجوری میں اطمینان و سکینت کا باعث بنا۔31 جنوری 1992ء سے ایم ٹی اے کے ذریعے خطبات سننے کا آغاز ہوا جو پہلے براعظم یورپ میں دیکھا اور سنا گیا۔1992ء کا جلسہ سالانہ برطانیہ سے براہ راست ٹیلی کاسٹ ہوا۔21 اگست سے خطبہ جمعہ چار براعظموں ایشیا، یورپ ، افریقہ اور آسٹریلیا میں ٹیلی وژن کے ذریعے با قاعدہ نشر ہونا شروع ہوا۔31 جولائی 1993ء کو پہلی عالمی بیعت ہوئی۔7 جنوری 1994ء کو باقاعدہ چوبیس گھنٹے نشریات اور 13 مارچ 2001 ء کو ڈیجیٹل نشریات کا آغاز ہوا۔ایم ٹی اے پر حضور کے 2724 پروگرام نشر ہوئے۔عالمی بیعت کا سلسلہ دن دگنی اور رات چوگنی ترقی کر رہا ہے 1993 - 2002 تک عالمی بیعتوں کی تعداد میں اضافوں کی رفتار حیرت انگیز ہے۔سال بہ سال جائزہ لیں تو اعداد و شمار کے مطابق چار لاکھ ،8لاکھ ، 16 لاکھ ، 30 لاکھ ، 50لاکھ ، ایک کڑوڑ ، چار کروڑ ، آٹھ کروڑ اور دو کروڑ مرزا طاہر احمد نے قتل کروایا ہے۔اسلم قریشی کو 10 جولائی 1988ء کو پاکستان کل 164,875,605 سعید روحیں حلقہ بگوش احمدیت ہو ئیں۔ٹیلی وژن پر دکھایا گیا۔اور اس نے اعتراف کیا کہ وہ اپنی مرضی سے کہیں گیا ہوا تھا۔دوسرے 17 اگست 1988ء کو جنرل ضیاء الحق کی جہاز کے حادثے میں عبرت ناک موت تھی۔اس حادثے سے پہلے جمعہ کے خطبہ میں آپ نے اس انجام کے قریب ہونے کی پیشگوئی کی تھی۔آپ کے مبارک عہد میں جماعت احمدیہ کی صد سالہ جو بلی بڑے وقار اور شان و شوکت سے منائی گئی۔تقریبات ، آرائشوں اور نمائشوں سے احمدیت کا 1995 میں احمد یہ ویب سائٹ Alislam۔org کا آغاز ہوا جس سے روحانی خزائن کے منہ کھل گئے اور علم و عرفان کی نہریں ساری دنیا کی دسترس میں آ گئیں۔آپ کے دور مبارک میں 13065 نئی بیوت بنیں 985 مشن ہاؤسز کھلے گئے۔56 زبانوں میں قرآن مجید کا ترجمہ مکمل ہوا منتخب آیات کا ترجمہ سو سے زائد زبانوں میں شائع ہوا کل 175 ممالک میں جماعت قائم ہوگئی۔(1982 میں