گلشن احمد

by Other Authors

Page 22 of 84

گلشن احمد — Page 22

42 41 چوتھا درجہ یہ ہے کہ انسان نماز کے مطالب کو سمجھ کر ادا کرے۔جو شخص ترجمہ نہیں جانتا وہ ترجمہ سیکھ کر نماز پڑھے اور جو ترجمہ جانتا ہو وہ ٹھہر ٹھہر کر نماز ادا کرے یہاں تک وہ سمجھ لے کہ میں نے نماز کو کماحقہ ادا کیا ہے۔پانچواں درجہ نماز کا یہ ہے کہ انسان نماز میں پوری محویت حاصل کرے اور جس طرح غوطہ زن سمندر میں غوطہ لگاتے ہیں اسی طرح وہ بھی نماز کے اندر غوطہ مارے یہاں تک کہ وہ دو میں سے ایک مقام حاصل کر لے یا تو یہ کہ وہ خدا کو دیکھ رہا ہو اور یا یہ کہ وہ اس یقین کے ساتھ نماز پڑھ رہا ہو کہ خدا تعالیٰ اُسے دیکھ رہا ہے۔۔۔اس مقام پر بندے کے فرائض پورے ہو جاتے ہیں مگر جس بامِ رفعت تک اُسے پہنچنا چاہیے اس پر ابھی نہیں پہنچا۔چھٹا درجہ ایمان کا یہ ہے کہ نوافل پڑھے جائیں۔یہ نوافل پڑھنے والا گویا خدا تعالیٰ کے حضور یہ ظاہر کرتا ہے کہ میں نے فرض تو ادا کر دیا ہے مگر ان فرائض کے اوقات کے علاوہ بھی تیرے دربار میں حاضر ہوا کروں گا۔ساتواں درجہ ایمان کا یہ ہے کہ انسان نہ صرف نمازیں اور نوافل ادا کرے بلکہ رات کو بھی تہجد کی نماز پڑھے۔یہ وہ سات درجات ہیں جن سے نماز مکمل ہوتی ہے اور ان درجات کو حاصل کرنے والے وہ لوگ ہوتے ہیں جن کے متعلق حدیث میں آتا ہے کہ خدا تعالیٰ رات کے وقت عرش سے اُترتا ہے۔اور اُس کے فرشتے پکارتے ہیں کہ اے میرے بندو خدا تعالیٰ تمہیں ملنے کے لئے آیا ہے۔اُٹھو اور اس سے مل لو۔پس ان سات درجوں کو پورا کرنا ہر شخص کے لئے ضروری ہے۔ہ شخص کا فرض ہے کہ وہ نماز کا پابند ہو۔ہر شخص کا فرض ہے کہ وہ نمازوں کو وقت پر ادا کرے۔ہر شخص کا فرض ہے کہ وہ نماز با جماعت ادا کرے۔ہر شخص کا فرض ہے کہ وہ علاوہ فرضی نمازوں کے رات اور دن کے اوقات میں نوافل بھی پڑھا کرے۔ہر شخص کا فرض ہے کہ وہ نماز کے اندر محویت پیدا کرے رسول اللہ ﷺ کے قول کے مطابق یا تو خدا تعالیٰ کو دیکھ رہا ہو یا وہ اپنے دل میں یہ یقین رکھتا ہو کہ خدا تعالیٰ اُسے دیکھ رہا ہے۔ہر شخص کو چاہیے کہ وہ فرائض اور نوافل اس التزام اور باقاعدگی سے ادا کرے کہ اُس کی راتیں بھی دن بن جائیں۔اسی طرح تہجد کی مناجات سے زیادہ سے زیادہ فائدہ اُٹھانے کی کوشش کرے۔جب تک کوئی شخص اپنی نمازوں کی اس رنگ میں حفاظت نہیں کرتا اُس وقت تک اُس کا یہ امید کرنا کہ وہ اللہ تعالیٰ کو راضی کرلے گا ایک وہم سے زیادہ کچھ حقیقت نہیں رکھتا۔( تفسیر کبیر جلد ششم صفحه 136,135) نماز میں کس وقت دُعا کی جاسکتی ہے؟ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں۔نماز کے اندر ہر موقع پر دُعا کی جاسکتی ہے۔رکوع میں بعد تسبیح ، سجدہ میں بعد تسبیح ، التحیات کے بعد کھڑے ہو کر، رکوع کے بعد بہت دعائیں کرو تا کہ مالا مال ہو جاؤ۔چاہیے کہ دُعا کے واسطے روح پانی کی طرح بہہ جاوے۔ایسی دُعا دل کو پاک وصاف کر دیتی ہے۔یہ دُعا میسر آوے تو پھر خواہ انسان چار پہر تک دُعا میں کھڑا رہے۔“ ( ملفوظات جلد نهم ص 55) ماز سے فارغ ہو کر تسبیح وتحمید کا طریق آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس