گلشن احمد

by Other Authors

Page 21 of 84

گلشن احمد — Page 21

40 39 ہاں اور میں اس بات پر گواہوں میں سے ہوں ) آیت فَسَبِّحْ بِحَمْدِرَتِكَ وَ اسْتَغْفِرُهُ ( النصر :4) جواب سُبُحْنَكَ اللهُمَّ رَبَّنَا وَ بِحَمْدِكَ اَللَّهُمَّ اغْفِرْ لَنَا پاک ہے تو اللہ اے ہمارے رب اپنی سب تعریف کے ساتھ اے اللہ ہمیں بخش دے۔) ماں۔جب قرآن پاک مکمل پڑھ لیں تو کیا دُعا کریں۔باپ۔دُعائے ختم قرآن پڑھیے یہ قرآنِ پاک کے آخر میں لکھی ہوتی ہے۔بلکہ اس دُعا کو یاد کر لیں اور ہر روز تلاوت کے بعد درود شریف اور یہ دُعا پڑھیں۔دُعا کا ترجمہ یہ ہے۔اے اللہ میری قبر میں میری وحشت کو دُور فرما اے میرے خدا مجھ پر قرآنِ عظیم کی برکت سے رحم فرما اور اسے میرے لئے امام، نور اور رحمت بنا۔اے خدا جو کچھ میں قرآن مجید میں سے بھول چکا ہوں وہ مجھے یاد دلا دے اور جو مجھے نہیں آتا وہ مجھے سکھا دے اور دن رات مجھے اس کی تلاوت کی توفیق عطا فرما۔اے رب العالمین ! اسے میرے فائدہ کے لئے حجت بنا دے آمین۔جب تلاوت قرآنِ پاک مکمل ہو جائے اور یہ دُعا پڑھ لیں تو دوبارہ قرآنِ پاک کے شروع کا کچھ حصہ پڑھیں اس اُمید اور دُعا کے ساتھ کہ اللہ پاک پھر پڑھنا قسمت میں کرے۔آمین۔اللهم آمین نماز انسان کی پیدائش کا مقصد خدا تعالیٰ کی عبادت کرنا ، خدا تعالیٰ کی ذات و صفات کو سمجھنا اور خدا تعالیٰ کا ہو جانا ہے۔خدا تعالیٰ رب ہے یعنی جسمانی اور روحانی پرورش کے سامان کرنے والا۔اُس نے بندے پر احسان کرتے ہوئے اُسے اپنے ملنے کی راہیں سکھائیں۔نماز فرض کرنا اللہ تعالیٰ کا بہت بڑا احسان ہے۔نماز سے ہمیں اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل ہوتا ہے۔نماز ہمیں گناہوں اور بدیوں سے پاک کرتی ہے اور ہمارے نفس کی اصلاح کرتی ہے۔نماز کو قائم رکھنا بڑی محنت اور جدو جہد کا کام ہے۔ہماری ہر نماز پہلی نماز سے زیادہ خوبصورت، عمدہ اور اللہ تعالیٰ کی محبت میں ڈوبی ہوئی ہونی چاہیے۔حضرت مصلح موعود نے نمازوں کی ادائیگی کے سات درجات بیان فرمائے ہیں۔پہلا درجہ جس سے اتر کر اور کوئی درجہ نہیں۔یہ ہے کہ انسان بالالتزام پانچوں وقت کی نمازیں پڑھے۔جو مسلمان پانچ وقت کی نماز پڑھتا ہے اور اُس میں کبھی ناغہ نہیں کرتا وہ ایمان کا سب سے چھوٹا درجہ حاصل کرتا ہے۔دوسرا درجہ نماز کا یہ ہے کہ پانچوں وقت نماز میں وقت پر ادا کی جائیں جب کوئی مسلمان پانچوں نمازیں وقت پر ادا کرتا ہے تو وہ ایمان کی دوسری سیڑھی پر قدم رکھ لیتا ہے۔تیسرا درجہ یہ ہے کہ نماز با جماعت ادا کی جائے۔