گلدستہٴ خیال — Page 81
Al کے بادشاہ کو اسلام کا تعارف کراتے ہوئے کی تھی اے بادشاہ ہماری قوم کی یہ حالت تھی کہ ہم سب جاہل تھے بتوں کی پوجا کرتے۔مردار کھاتے برے کاموں کے مرتکب ہوتے رشتے ناطے توڑتے۔پڑوس سے برا سلوک کرتے۔اور ہم میں سے قوی کمزور کو کھا جاتا تھا یہ ہماری حالت تھی کہ اللہ تعالیٰ نے ہماری جانب ہمیں میں سے ایک شخص کو رسول بناکر بھیجا جسکے نسب سچائی امانت اور پاکدامنی کو ہم سب جانتے ہیں اس نے ہمیں اللہ کی جانب دعوت دی کہ ہم اسے یکتا مانیں اور اسکی عبادت کریں ہم اور ہمارے بزرگوں نے اسکو چھوڑ کر پتھروں اور بتوں کی جو پوجا اختیار کی اسکو چھوڑیں اس رسول نے ہمیں سچی بات امانت کی ادائیگی رشته داروں سے تعلقات کے قائم رکھنے پڑوسیوں سے نیک سلوک کرنے۔حرام باتوں اور قتل و خونریزی سے باز رہنے کے کا حکم دیا اور ہمیں بری باتوں جھوٹ بولنے یتیم کامال کھانے اور پاک دامن عورتوں پر تہمت لگانے سے منع فرمایا اسنے ہمیں حکم دیا کہ خدائے یکتاکی عبادت کریں اور اسکے ساتھ کسی کو شریک نہ کریں اور اسنے ہمیں نماز زکوۃ اور روزوں کا حکم دیا پس ہم نے اسکی تصدیق کی اور اسپر ایمان لائے وہ جو کچھ اللہ تعالی کی جانب سے لا یا ہم نے اسکی پیروی کی پس ہم نے خدائے یکتا کی عبادت میں کسی کو اسکا شریک نہین بنا یا اور ان تمام چیزوں کو حرام جا نا جو ہم پر حرام کی گئیں اور ان چیزوں کو حلال جانا جو ہم پر حلال کی گئیں تو ہماری قوم نے ہم پر ظلم و زیادتی کی اور انہوں نے ہمیں تکلیفیں پہنچائیں اور ہمیں دین کے متعلق مصیبتوں میں مبتلا کیا تا کہ ہمیں اللہ کی عبادت سے پھیر کر بتوں کی پو جا کی جانب لوٹ جائیں اور تا ہم ان تمام بری چیزوں کو حرام سمجھ لیں جنکو ہم حلال سمجھا کرتے تھے جب ان لوگوں نے ہم کو مجہور کیا اور ظلم ڈھائے اور ہمارے لئے زندگی کا میدان تنگ کردیا اور ہمارے دین کے کاموں میں رکا وٹین ڈالنے لگے تو ہم آپ کے ملک کی جانب نکل آئے اور ہم نے آپ کو دوسرے لوگوں پر تر جیح دی اور آپکی ہمسائیگی کی جانب راغب ہوئے اور اے بادشاہ ہمیں امید ہوئی کہ آپ کے پاس ہم پر ظلم نہ ہو گا (اقتباس از سیرت ابن ہشام۔ترجمه مولوی قطب الدین۔کرا چی صفحه ۵۰۲) ر صغیر ہندوستان کے نامور مسلمان مؤرخ سید امیر علی نے آنحضور ﷺ کے پاک کردار کا خاکہ ان وجد آفریں الفاظ میں کھینچا ہے : ہم نے اس عظیم الشان انسان کو یتیم بچے کی حالت میں دیکھا جو اپنے باپ کی محبت سے محروم رہا جو حین میں والدہ کی محمداشت سے بھی محروم رہا اس کی زندگی کے اولین ایام مصائب اور دکھوں سے بھرے ہوئے تھے معصوم لڑکپن سے آپ صاحب فکر نوجوان نے آپ کی جو انی کی عمر مین کی زندگی کی طرح گناہ سے پاک تھی آپ کی بڑی عمر کا حصہ تو جوانی والے حصہ کی طرح سادہ اور خدا پرست تھا آپ غریبوں اور کمزورں کی مدد کو ہر وقت تیار رہے تھے آپ کا دل خدا کی تمام مخلوق کے لئے ہر وقت نرم اور ہمدردی سے بھرا ہوا تھا آپ اس قدر عاجزی اور