گلدستہٴ خیال — Page 45
۴۵ درج ذیل تعریفی الفاظ میں بیان کیا گیا ہے اِنْمَا المُومِنُونَ الَّذِينَ إِذَا ذُكِرَ اللَّهُ وَجِلَتْ قُلُوبُهُمْ وَإِذَا تُلِيَتْ عَلَيْهِمْ آيَتْهُ زَادَتهُم إِيمَانًا وَعَلَىٰ رَبِّهِم يَتوكلون - - (الانفال ۸ آیت (۳) ترجمہ۔ایمان والے لوگ تو ایسے ہوتے ہیں کہ جب ان کے آگے خدا کا ذکر آتا ہے تو ان کے قلوب ڈر جاتے ہیں اور جب ان کے سامنے خدا کی آیات کی تلاوت کی جاتی ہیں تو وہ آیات ان کے ایمان کو مضبوط کرتی ہیں اور وہ اپنے رب پر توکل کرتے ہیں انسانی رشتوں میں کمزوریاں ضرور ہوتی ہیں اور خاص طور پر محبت والا رشتہ تو کبھی بھی ہموار نہیں ہوتا ہے مایوسی۔حسد نا چاقی اس رشتہ میں بعض دفعہ ایسے نمودار ہوتے ہیں کہ یہ امور رشتہ کو ختم کر دیتے ہیں لیکن خدا کے ساتھ تعلق اور محبت والے رشتہ میں ایسا کوئی امر داخل نہیں ہوتا ہے خدا کی ذات والا صفات میں ہمیں سب سے گہر اور مخلص دوست نصیب ہوا ہے خدا کی ذات کے علاہ ہمارے اندرونی جذبات اور احساسات سے زیادہ کوئی واقف نہیں ہے اور ہم اپنے دل کی اتھاہ گہرائیوں میں پوشیدہ راز خدا کے آگے مکمل اعتماد کے ساتھ بیان کر سکتے ہیں ھم خدا کے ساتھ کھلے طریق سے آزادانہ طور پر گفتگو کر سکتے ہیں خدا کی ذات میں ہمیں کیا خوب دوست ملا ہے ھم جو بھی دعا یا التجا اس کے آگے کرتے ہیں ان کو سنتے سنتے وہ تھکتا نہیں چاہے یہ التجا کتنی ہی لہی ہو اور خواہ یہ رات یا دن کسی وقت کی جائے دنیا میں کیا ہم ایسا وجود پاسکتے ہیں جو ہمیں مکمل توجہ اور پوری ہمدردی دن رات مہیا کرے دیکھنے میں آیا ہے کہ بعض دفعہ والدین بھی اپنے باتونی بچوں سے تنگ آجاتے ہیں اور پھر دوست احباب بھی بعض دفعہ غیر دلچسپ باتیں یا فضول بحث لگا تار کر کے انسان کو بد دل کر دیتے ہیں اس چیز کا خدا پر اطلاق نہیں ہوتا وہ ھماری دعاؤں اور التجاؤں کو سن کر تھکاوٹ محسوس نہیں کرتا ہے خدا کی ذات میں ہمیں کیا خوب وفادار دوست نصیب ہوا ہے انسانی رشتوں میں اکثر حسد پیدا ہو جاتا ہے مگر خدا کے ساتھ ایسے رشتہ میں سوائے امن اور سکون