گلدستہٴ خیال

by Other Authors

Page 44 of 173

گلدستہٴ خیال — Page 44

۴۴ مراد ہے جو خدا کی رضا حاصل کر نے کیلئے کیا جائے عبادت کی عادت اپنے اندر پیدا کرنا خدا کے عاشق کا طرز زندگی اختیار کرنے کے مترادف ہے ایسا عاشق پوری سعی کرتا ہے کہ اسکی حیات مستعار کا ہر لمحہ خدا کی اطاعت میں گزرے یہی چیز ہماری زندگی کا منتہائے مقصود ہو اور اسکی یہی آرزو ہر وقت رہے جب ایسا ہو جائیگا تو پھر خدا کے نور سے ہم منور ہو جائیں گے ہمیں ہر وقت اس بات کی آرزو اور جستجور ہے کہ خدا ہمیں اس بات کی استطاعت دے کہ ہم اس کے عاشق صادق بن جائیں اور احکامات خداوندی پر عمل پیرا ہو سکیں کہا جاتا ہے کہ خدا کی معیت میں گزرا ہوا ایک لمحہ دنیا کی تمام مسرتوں سے زیادہ دائمی خوشی مہیا کرتا ہے ہم خداوند کریم سے جس قدر پیار کرتے ہیں اتنا ہی زیادہ ہم خدا کا قرب محسوس کرتے ہیں اور جتنا زیادہ ہم خدا کا قرب محسوس کرتے ہیں اتنا ہی زیادہ ہم خدا کے قریب ہو تے جاتے ہیں اور جتنا زیادہ ہم خدا کے قریب ہوتے ہیں اتنا ہی زیادہ ہم میں خدا کی صفات کا ظہور ہونے لگتا ہے اور پھر ہم خدا کی صفات کا جتنا زیادہ مظہر بنتے ہیں اتنا ہی زیادہ لوگ ہماری طرف کھنچے چلے آتے ہیں جس طرح ایک کھلاڑی کیلئے جسمانی ورزش اور فٹ نہیں ضروری ہوتی ہے بعینہ ایک روحانی مسافر کے لئے عشق الہی کا ہونا بنیادی اہمیت رکھتا ہے دیکھو محبت کے بغیر دوانسانوں کے درمیان رشتہ مضبوطی سے قائم نہیں رہ سکتا ہے تو پھر محبت کے بغیر خدا سے رشتہ کس طرح قائم رہ سکتا ہے ایسا خدا جس سے بہتر محبت کرنے والا اور وفادار دوست کوئی نہیں ہو سکتا ہے قرآن کریم میں ارشاد ہوا ہے اللہ ولی الذینَ آمَنُوا يُخرِ جَهُم مِنَ الظُّلَمْتُ إِلَى النُّورِ ( سورۃ نمبر ۲ آیت نمبر (۲۵۸) اللہ ان لوگوں کا دوست ہے جو ایمان لائے اللہ ان کو (کفر کی) کی تاریکی سے نکال کر (اسلام کے نور کی طرف لے آتا ہے۔اس آیہ ممدوحہ میں ایمان والوں سے مراد ایسے افراد ہیں جو دل کی گہرائیوں سے خود کو خدا کی رضا کی خاطر وقف کر دیتے ہیں قرآن پاک میں ایسے افراد کو