گلدستہٴ خیال — Page 153
۱۵۴ سے بیگانہ ہو گئے انکے درمیان فرقے پیدا ہو گئے اور انہوں نے اپنے مذہب کی تعلیمات کو فراموش کر دیا مسلمانوں کو ایک مشترکہ پلیٹ فارم پر لانے کیلئے ایک نبی کی ضرورت تھی اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام ایک ایسے ہی نبی اللہ تھے مسٹر آرچرڈ۔آپ پہلے آدمی ہیں جس نے برٹش قوم میں سے اس نبی کو تسلیم کیا ہے اور پہلے خوش قسمت انسان ہیں جس نے اپنی زندگی اس نبی کے لائے ہوئے مذہب کی خدمت میں وقف کی ہے ہم خداند کریم سے ملتجی ہیں کہ وہ آپ کو صبر و استقلال سے نوازے اور اسلام کیلئے آپکے جذبہ اور خلوص میں زیادتی پیدا کرے وہ مقصد بہت ہی نیک اور عظیم ہے جس کیلئے آپ کھڑے ہوئے ہیں اس وقت آپ کے ملک کے لوگ آپ کو نہیں جانتے چہ جائیکہ دنیا آپکو جانے کہ آپ کون ہیں مگر وہ وقت نزدیک ہے جب روئے زمین پر خدا کے نام کا بول بالا ہو گا اور دنیا میں یہاں وہاں ہر جمعہ احمدیت کا چہچا ہو گا پھر ایک وقت آئیگا جب آپکے وطن کے لوگ تاریخ کے صفحات میں پڑھیں گے کہ احمدیت کے لوائل زمانہ میں ایک انگریز بھی تھا جس نے احمدیت قبول کی تھی جب وہ جائیں گے کہ ایک شخص بشیر احمد آرچرڈ نامی تھا جس نے احمدیت قبول کی تو وہ پھر مطمئن ہو جائیں گے کہ انگریز قوم نے اپنا حق پورے طور پر ادا کیا۔اس وقت آپ ایک نامعلوم انسان ہیں آپکا کر کسی نے نہیں سنا مگر وہ وقت آتا ہے جب قومیں آپکے بارہ میں ذکر کر کے فخر محسوس کریں گی۔اور آپکی تعریف کے گن گائیں گی اسلئے جو کچھ آپ کہیں اور جو کچھ آپ کریں اسمیں بہت احتیاط سے کام لیں یہ مت سوچیں کہ آپکی حرکات و افعال ذاتی ہیں نہیں وہ تو پوری انگریز قوم کا پر تو ہیں بعد میں آنوالی نسلیں آپکی حرکات پر نقش ہر ہوں گی اور آپکے معمولی افعال پر وہ ممکن حد تک عمل کریں گی کیا آپ نے دیکھا کہ حضرت عیسی کے حواریوں کو پوری انگریز قوم عزت و تکریم کا مقام دیتی ہے اور اسکے نقش قدم پر چل کر فخر محسوس کرتے ہیں بعینہ رسول کریم ﷺ کے اصحاب کی بھی مسلمان بہت عزت کرتے ہیں اور انکے نقش قدم پر چلنے کی پوری پوری کوشش کرتے ہیں اگر آپکی حرکات اور اعمال اسلام کے مطابق ہوئے یعنی وہ نیک اور اعلیٰ و بلند ہوئے تو وہ یقیناً آپکی قوم کے اخلاقی کردار کو بڑھانے میں محمد ہو نگے اور اگر وہ اسلام سے مطابقت نہ رکھتے ہوئے کم تر ہوئے تو آپکی قوم اسکے نتیجے میں خسارے میں ہوگی اسلئے آپ آنیوالی نسلوں کیلئے اچھا نمونہ چھوڑیں ورنہ خدا آپ کی جعبہ ایک اور انسان کو اس مقصد کی تکمیل کیلئے پیدا کر دیگا جب احمدیت پوری دنیا میں پھیل جائیگی اور یقیناً پھیل جائیگی تو دنیا کی کوئی طاقت اسکی ترقی کو نہیں روک سکے گی تو پھر لوگوں کے دلوں میں آپکی عزت ہوگی جتنی کہ لوگ کسی عظیم الشان وزیر اعظم کی کرتے ہیں آخر پر میں آپ کو یہ نصیحت کرتا ہوں کہ آپ پورے خلوص اور نیکدلی سے کام کریں آنیوالوں کیلئے ایک نمونہ قائم کریں۔میں خدا سے اسکے رحم اور آپ پر برکات کیلئے خاص دعا کرتا ہوں۔خدا کرے وہ کام جسکا اپنے یہاں آغاز کیا ہے اس کا خاتمه بالخير ہو آمین **