گلدستہٴ خیال — Page 152
۱۵۳ اس زیارت کے بعد میں نے اپنی ساری زندگی یہ اپنا شعار بنا لیا کہ جب کسی بڑے شہر میں جاتا تو مقامی احباب سے ضرور ملاقات کرتا اور میرے تجربہ میں یہ آیا کہ ہر وہ شہر جس میں میں نے جماعت کے احباب سے ملاقات کی انہوں نے میر ابدی گرمجوشی سے استقبال کیا بلآخر میں نے احمدیت قبول کرلی اسکے بعد میں نے ایک سال لندن جماعت کے ساتھ گزارا اور میں وہاں بھی اس پر اور انہ پیار اور والہانہ شفقت کو اپنے دوسرے مبلغین سے پاتا ہوں جماعت احمدیہ کے مختلف ممبران کے درمیان جو بر اور نہ شفقت کا رشتہ پایا جاتا ہے وہی احمدیت کی صداقت کا ایک جیتا جاگتا ثبوت ہے اگر احمدیت کچی نہ ہوتی تو اسکے ممبران کے درمیان یہ مضبوط رشتہ موجود نہ ہوتا ایسا مضبوط رشتہ کسی اور مذہب کے پیروکاروں میں نہیں ملتا ہے اس صداقت کو سمجھنے کیلئے کسی شخص کا سکالر ہونا ضروری نہیں ہے جب حضرت عیسی علیہ السلام اپنے پیروکاروں سے اپنی دوسری بعثت کے بارہ میں مخاطب ہوتے تھے تو اسکا وہ ایک صاف اور سادہ نشان بیان کرتے تا اس سے اس بات کا ثبوت مل سکے کہ یہ پیش گوئی کب پوری ہوگی حضرت عیسی علیہ السلام نے جھوٹے دعویداروں کے بارہ میں خبردار کرتے ہوئے کہا کہ وہ اپنے پھل سے پہچانے جا ئیں گے۔میں ایک بار پھر یہ بات دہراتا ہوں کہ دوسروں کو احمدیت کی صداقت سمجھانے کیلئے ایک شخص کا سکالر ہونا ضروری نہیں ہے ہم اپنی عملی زندگی سے دوسروں کو احمدیت کی طرف کھینچ سکتے ہیں اور یہی وہ آپ لوگوں کا عمل تھا جس نے مجھے احمدیت کی طرف مائل کیا آپ لوگوں نے جو مثالی نمونہ پیش کیا اس نے میرے نفس پر بہت اثر کیا اب میں آپ تمام احباب سے درخواست کرتا ہوں کہ میرے لئے دعا فرمائیں کہ خدا کی مشیت کے مطابق میں اپنے فرائض کو پوری وفاداری کے ساتھ ادا کر سکوں حضرت خلیفتہ اسیح الثانی کا خطاب امام جماعت احمدیہ قادیان حضرت خلیفتہ السیح الثانی رضی اللہ عنہ نے فرمایا : چونکہ مسٹر بشیر احمد آرچر ڈار دو زبان سے نابلد ہیں اسلئے میں اپنے خیالات کا اظہار انگریزی میں کرونگا تاوہ جو باتیں میں کہتا چاہتا ہوں انکو پوری طرح سمجھ سکیں ایک زمانہ تھا جب عیسائیت کے پیروکاروں نے عیسائیت کے اصولوں پر پوری طرح عمل کیا اور اسکے ساتھ دنیوی اموال میں بھی انکو بہت وافر حصہ ملا مگر کچھ عرصہ بعد انہوں نے عیسی علیہ السلام کی تعلیم کو فراموش کر دیا اور مادیت کے مکمل طور پر غلام ہو گئے اور دنیوی امور میں انکی توجہ بلکل مرکوز ہو گئی وقتا فوقتا انکے ذہن میں ایک طاقتور خدا کا خیال جنم لیتا مگر اس خیال کا انکی زندگیوں پر پورا اثر نہیں تھا۔دوبارہ وہ دنیوی امور میں غرقاب ہو گئے اسکے بعد خدا نے یہ ضروری جانا کہ انکی ہدایت کیلئے ایک نبی مبعوث کرے اسکے بر عکس مسلمان بھی اس چیز کے سزاوار ہوئے وہ اپنے مذہب