گلدستہٴ خیال

by Other Authors

Page 138 of 173

گلدستہٴ خیال — Page 138

۱۳۹ ہے اور اسلام کو ایسا نہیں کرنا چاہئے ایک دن لیفٹیننٹ آرچرڈ نے مجھ سے کہا کہ کیا تم مجھے اردو پڑھا دو گے میں نے جواب دیا کہ دفتر کے وقت تو میں کچھ نہیں کر سکتا ہاں اگر آپ صبح پی ٹی ( نزیک رینگ) کے وقت چاہیں تو میں ایسا کر سکتا ہوں چنانچہ میرے سیکشن آفیسر کیپٹن راجندر سنگھ نے مجھے اجازت دیدی اور میں نے مسٹر آرچرڈ کو اردو پڑھانی شروع کر دی ایک روز لیفٹیننٹ صاحب نے مجھ سے کہا کہ تمہاری جماعت دنیا کے فلاح و بہبود کیلئے بہت کچھ کر رہی ہے مثلا یہی کہ اتنا لٹریچر مفت تقسیم کرتی ہے کیا میں اسکا ممبر بن سکتا ہوں ؟ میں نے کہا شوق ہے۔کہنے لگے کہ مگر میں مسلمان نہیں ہوں گا میں نے جو ابا کہا کہ جب آپ اس جماعت میں داخل ہو نگے تو پہلی چیز جس کا آپ کو اقرار کرنا پڑیگا وہ ہے اشہد ان لا اله الا الله وحده لا شريك له واشهد ان محمد عبده ورسوله اور جو شخص اس کلمہ کو پڑھ کر اسکا اقرار کریگا وہ مسلمان ہو تا ہے تو کہنے لگے کہ پھر میں اس جماعت میں داخل نہیں ہو تا اگر میں اس جماعت کی کچھ روپیہ سے مدد کرنا چاہوں تو کیا میرا 1 یہ روپیہ قبول کیا جائیگا میں نے کہا یقینا اس پر وہ بولے کہ میں سو روپیہ دینا چاہتا ہوں ایک صبح جب وہ مجھ سے اردو کا سبق لے رہے تھے تو باتوں باتوں میں آواگون کا ذکر چھڑ گیا کہنے لگے میں اس مسئلہ کا قائل ہوں۔میں نے ایک مثال پیش کی کہ اگر ایک سپاہی کوئی غلطی کرے اور اسکی پاداش میں اسکو کوئی سزادی جائے لیکن سزا دینے سے قبل اسکو مسمرائز کر دیں (کیونکہ لیفٹینٹ صاحب مسمریزم کے ماہر تھے ) اور اسکی سزا بھگتنے کے بعد اگر آپ مسمریزم کا وہ اثر اسکے دماغ سے دور کر دیں تو کیا اس سپاہی کو سزا دینا کوئی عظمندی کی بات ہے یا اس سزا کا کوئی معقول نتیجہ نکل سکتا ہے کہنے لگے کہ نہیں۔میں نے کہا بس یہی حالت آواگون کی ہے اگر کوئی شخص یہ جانتا کہ وہ پچھلے جنم میں کیا تھا اور کس گناہ پائی کے بدلہ میں موجودہ جون