گلدستہٴ خیال — Page 116
14 غم گساری کے وہ لوگ جو کسی مصیبت یا آفت میں مبتلا ہوں یا جو کسی چیز کے محتاج ہوں انکو ہمدردی یا دلسوزی سے بہت سکون حاصل ہوتا ہے اسکی حیثیت تریاق جیسی ہے جسکا اثر افیون یا سکون مٹنے والی دوا سے بھی زیادہ ہوتا ہے۔ہمدردی سے نہ صرف مصیبت زدہ شخص کو اطمینان حاصل ہو تا ہے بلکہ ہمدرد شخص کے اپنے نفس میں بھی مسرت اور اطمینان کی لہر دوڑ جاتی ہے سرور کونین محمد مصطفی ﷺ نے فرمایا ہے کہ جو شخص کسی مصیبت زدہ شخص سے ہمدردی کرتا ہے اسکوویا ہی اس کا اجر دیا جائیگا ہر کوئی کبھی نہ کبھی کسی مصیبت میں مبتلا ہوتا ہے مصیبت یا غم کسی ایک شخص کو شاید چھوٹی یا غیر ضروری نظر آئے مگر اسی آفت میں مبتلا انسان کو وہ پہاڑ کی طرح بڑی اور نا قابل تغیر نظر آتی ہے کسی شخص کے غم یا مصیبت کو غیر ضروری جاننا ہمیں زیب نہیں دیتا ہے مصیبت زده شخص سے ہمدردی کرنا بھی نیکی ہے بہتر تو یہ ہے کہ انسان دوسرے سے ہمدردی کرے اور اسے جرات و ہمت دلائے ہمدرد انسان کی ہر کوئی نہ صرف عزت کرتا ہے بلکہ وہ خدا کی رضامندی و خوشنودی بھی اس کے ذریعہ حاصل کرتا ہے اللہ تبارک و تعالیٰ اپنی کتاب مبین میں فرماتے ہیں : فا استَبقو الخيرات ( سورة ۳ آیت (۱۵) اسی طرح نبی پاک ﷺ نے فرمایا ہے کہ ہر نیک کام اور اچھا عمل صدقہ و خیرات گنا جاتا ہے دنیا میں کوئی ایسا شخص نہیں ہے جس میں روحانی کمزوریاں یا نقائص نہ ہوں بعض میں یہ کم اور بعض میں زیادہ ہوتی ہیں ہم نیک راستہ پر کسی قدر بھی گامزن ہوں اور اخلاص سے خدا کی خوشنودی حاصل کر کے بھی خواہش مند ہوں پھر بھی ہمیں روحانی شفا کی متواتر ضرورت رہتی