گلدستہٴ خیال — Page 108
I+A بلا شبہ لواحقین کیلئے کسی عزیز کا دنیائے فانی سے کوچ کر جانا ایک افسوس ناک واقعہ ہو تا ہے وہ غم کے مارے نڈھال ہوئے جاتے ہیں جن لوگوں نے برے کام یا گناہ کئے ہوتے ہیں انکی روحیں تڑپتی اور سزا پا ر ہی ہوتی ہیں اسکے بر عکس جن لوگوں نے خدا کی عبادت میں وقت صرف کیا ہوتا ہے اور انہوں نے خود کو پاک وصاف رکھا ہوتا ہے اور نیک کام سر انجام دئے ہوتے ہیں ان کیلئے موت نہ ختم ہو نیوالی زندگی کا آغاز ہوتی ہے ایسے نیک لوگوں کے لئے اپنے عزیزوں سے مفارقت میں بھی مسرت کا پہلو پنہاں ہوتا ہے کیونکہ انکو پتہ ہے انکا رب ان سے راضی ہے اور انکو جنت الفردوس میں ابد الآباد تک کے لئے راحت و سکون کا سامان مہیا کر نیکا وعدہ کیا گیا ہے یہ بات ذہن نشین رہے کہ خدا روز قیامت کا مالک ہے وہ مالک روز و جزا معاف کرنے والا اور نہایت مہربان ذات ہے اگر وہ چاہے تو گناہ گار سے بھی پیار کا سلوک کرے جسکی اصلاح غیر ممکن ہو۔بر کیف ایک زاہد اور گوشہ نشین انسان داغوں سے پاک زندگی گزارنا پسند کرتا ہے بے شک اسمیں خامیاں ہوں جس سے وہ خوبی آگاہ ہوتا ہے وہ اس کوشش میں ہوتا ہے کہ اسکی روح طہارت کے زیور سے مزین ہو قبل اسکے کہ موت کا فرشتہ اسکو آدبوچے۔آئیے اب ذرا یوروپ کے مشہور ادیب اور مؤرخ سر والٹر سکاٹ کے درج ذیل الفاظ پر غور و فکر کریں جو اپنے بستر مرگ پر اپنے فرزند سے کیے : (میرے بیٹے ) میرے پاس صرف ایک منٹ ہے کہ میں تم سے بات کر سکوں لخت جگر ایک اچھے انسان بنا۔نیکی اختیار کرنا۔مذہب سے لگاؤ رکھنا غر ضیکہ اچھا انسان بنا اس کے علاوہ تمہیں کوئی اور چیز آرام نہیں نہیں دے گی جب تم اس بستر پر لیٹے ہو گے