گلدستہ

by Other Authors

Page 77 of 127

گلدستہ — Page 77

66 آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم آپ سے مشورے لیا کرتے تھے۔آپ کی فوجوں کا کمانڈر بنایا کرتے تھے۔آپنے کو علم سکھایا کرتے تھے اور فرمایا کرتے تھے کہ اے علی تم علم کا دروازہ ہو۔پھر یہ محبت کرنے والا آقا اللہ جی کے پاس چلا گیا اور حضرت علی جو پانچ چھ سال کی عمر سے ساتھ رہتے تھے تنہا رہ گئے۔اُن کے تو ماں باپ سی انحضور صلی اللہ علیہ وسلم تھے بہت یاد آیا کرتے تھے۔آپ کا سلوک۔آپ کا پیار اور آپؐ کا تربیت کا انداز سب کچھ آنکھوں کے سامنے آجاتا۔آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد حضرت ابو بکر صدیق خلیفہ بنے حضرت علی نے ان کا ہر حکم بڑی فرمانبرداری سے مانا۔پھر حضرت عمرا خلیفہ ہوئے تو حضرت علی سے پیار بھرا برتاؤ جاری رہا۔مشورہ کرتے اور ساتھ ساتھ رہتے۔پھر حضرت عثمان نے تیسرے خلیفہ بنے۔آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد سلمان کچھ کچھ باتیں ماننے میں شدت ہو گئے تھے۔حضرت عثمان کے زمانے تک دشمنوں نے بہت سی غلط باتیں مسلمانوں میں مشہور کر دی تھیں۔ہر طرف جھگڑے ہونے لگے۔حضرت عثمان شہید کر دیئے گئے۔پھر حضرت علی خلیفہ ہے۔سارا وقت جھگڑوں کے فیصلے کرتے رہتے اللہ تعالیٰ سے رو رو کر دعائیں کرتے کہ سلمانوں پر رحم فرما۔مگر مسلمان اپنے پیارے آقا کی باتوں کو بھولتے جارہے تھے۔آپ بار بار نصیحت فرماتے۔پیار سے سمجھاتے آپس میں صلح کراتے مگر کامیابی نہ ہوتی۔آخر ایک دن صبح کی نماز آپ مسجد آئے تو دشمن تلوار لے کر آپ کے پیچھے آگیا۔آپ سجدہ میں گئے تو تلوار کا وار کیا۔آپ شدید زخمی ہو گئے اور اسی رات فوت ہو گئے۔آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کے فوت ہونے کے تیس سال بعد یہ واقعہ ہوا۔بعد حضرت علی شہید ہو گئے مگر آپ کی بہادری کی باتیں یاد کر کے آج میجی حیرانی ہوتی ہے۔آپ کا دل چاہ رہا ہوگا کہ اب وہ ساری باتیں آپ کو ستاؤں آپ