گلدستہ — Page 21
M بچہ۔باقی مسلمانوں پر کیا بیت رہی تھی ؟ ماں۔سختیاں بڑھتی جارہی تھیں۔لیکن خدا تعالیٰ نے بھی اپنی قدرت کے نظارے دکھانے شروع کر دیئے تھے۔نبوت کے چھٹے سال آنحضرت صلی اللہ علیہ دستم کے چھا حضرت حمزہ ایمان لائے۔اب تو کفار مکہ تڑپ اُٹھے۔انہوں نے ایک بار پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو دولت، عزت اور سرداری کی پیشکش کی لیکن آپ کا جواب وہی تھا کہ میں اس کام کو نہیں چھوڑ سکتا۔تھک کر سرداران قریش نے ایک اور پیشکش کی اور کہا کہ یوں کرتے ہیں کہ کبھی تم ہمارے یتوں کو پوچ لو اور کبھی ہم تمہارے خدا کو سجدہ کرلیں گے۔آپ نے بڑے پیار سے سمجھایا کہ یہ ممکن نہیں ہے۔جب ہمارا دل ہی نہیں مانے گا تو عبادت کیسے ہوگی۔اس موقع پر سورۃ الکافرون نازل ہوئی۔بچہ۔پھر تو وہ ہر طرح مایوس ہو گئے ہوں گے۔ماں۔مایوسی میں انہوں نے انتہائی سخت فیصلہ کیا اور بنو ہاشم اور بنو مطلب سے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا ساتھ نہ چھوڑنے کی وجہ سے ہر قسم کا تعلق بین ہوں تجارت بند کرنے کا فیصلہ کیا۔نبوت کے ساتویں سال محرم کے مہینے میں سرداران قریش کے دستخطوں سے ایک معاہدہ لکھ کر کعبہ میں لٹکا دیا۔جس کی رُو سے دونوں قبائل ایک گھائی شعب ابی طالب میں قید ہو کر گئے وہاں کھانے پینے کی کوئی چیز بھی نہیں آسکتی تھی۔صرف حج کے زمانے ره میں مسلمان باہر نکل سکتے تھے۔اُن دنوں آپ گھوم پھر کر قبائل میں تبلیغ کرتے تھے تین سال تک یہ ظلم جاری رہا۔آخر خدا تعالیٰ نے پیارے آقا صلی اللہ علیہ دوستم کو بتایا کہ معاہدے میں سوائے اللہ کے لفظ کے باقی ساری تحریر کو دیمک چاٹ چکی ہے۔آپ نے حضرت ابو طالب کو بتایا کہ اللہ تعالیٰ