گلدستہ

by Other Authors

Page 20 of 127

گلدستہ — Page 20

۲۰ نے ایک پروگرام کے تحت قریش کے معزز سرداروں عمرو بن العاص اور عبداللہ بن ربیعہ کو قیمتی تحائف دے کر حبشہ روانہ کیا تا کہ بادشاہ سے مل کر انہیں واپس لائیں۔ایسا نہ ہو کہ باہر کے علاقوں میں بھی اسلام پھیلنا شروع ہو جائے۔بچہ۔افوہ اپھر کیا ہوا ؟ ماں۔یہ دونوں بادشاہ کے دربار میں گئے اور بتایا کہ ان لوگوں نے اپنے باپ دادا کے مذہب کو چھوڑ کر نیا دین اختیار کر لیا ہے اور یہاں آگئے ہیں۔آپ انہیں ہمارے ساتھ بھیجوا دیں۔بادشاہ انصاف کرنے والا تھا۔اس نے مسلمانوں کو بلا کر ان سے حبشہ آنے کی وجہ پوچھی۔حضرت جعفر بن ابی طالب نے سارا ماجرا استایا اور سورہ مریم کی ابتدائی آیات کی تلاوت کی وہ بہت متاثر ہوا اور قریش کے مخالف لوٹا دیئے۔وہ ناکام لوٹنا نہیں چاہتے تھے۔انہوں نے پھر بادشاہ سے کہا کہ یہ صرف ہمارے دشمن نہیں آپ کے نبی حضرت عیسی کے بارے میں جو ایمان رکھتے ہیں وہ ان سے معلوم کر لیں۔اس وقت عیسائی اپنی تعلیم کے بگڑ جانے کی وجہ سے حضرت عیسی کو خدا کا بیٹا سمجھنے لگے تھے۔حضرت جعفر نے جرات کے ساتھ اسلام کی تعلیم پیش کی کہ وہ حضرت عیسی کو خدا کے بندے اور اس کا پیارا رسول سمجھتے ہیں۔بچہ۔بادشاہ ناراض تو نہیں ہوا۔ماں۔اُس نے کہا کہ یہی اُس کا بھی عقیدہ ہے اس پر اس کے دربار کے پادری غصہ میں آگئے۔مگر بادشاہ نے کسی کی پرواہ نہ کی اور مسلمانوں کو آرام سے رہنے دیا۔