گلدستہ — Page 13
ماں۔یہ قرآن پاک کی سورہ علق کی ابتدائی آیات ہیں بد الله الرحمنِ الرَّحِيمِ اِقْرَأْ بِاسْمِ رَبّكَ الَّذِي خَلَقَ وَخَلَقَ الْإِنْسَانَ مِنْ عَلَق اِقْرَأْ وَرَبُّكَ الْأَعْرَمُ لا الَّذِي عَلَّمَ بِالْقَلَمِ لا عَلَّمَ الْإِنْسَانَ مَالَمْ يَعْلَمُلُ (ترجمہ) پڑھ (یا پیغام پہنچا) اپنے رب کے نام سے جس نے سب چیزوں کو بنایا۔انسان کو خون کے لوتھڑے سے پیدا کیا۔پیغام پہنچا تیرا رب بڑی عزت اور شان والا ہے۔جس نے قلم کے ذریعے علم سکھایا۔ایسا علم جو وہ پہلے نہیں جانتا تھا۔اس پیغام ہے آپ پر عجیب کیفیت گذری۔آپ گھر تشریف لائے اور حضرت خدیجہ سے فرمایا مجھ پر کمبل اڑھا دو۔حضرت خدیجہ نے گھر سیٹ کی وجہ پوچھی تو آپ نے سارا ماجرا سنایا۔حضرت خدیج به سمجهدار خاتون تھیں۔آپ کو تسلی دی اور کہا آپ اچھے اخلاق کے مالک ہیں۔یہ کوئی غیر معمولی واقعہ ہے۔میرے چچا زاد بھائی ورقہ بن نوفل مذہبی علم رکھتے ہیں۔توریت اور زیور کے عالم ہیں۔اُن کو جاکہ ساری بات بتاتے ہیں۔بچہ۔ورترین نوفل کا مذہب کیا تھا ؟ ماں۔یہ عیسائی تھے۔اور جانتے تھے کہ ایک بہت بڑی شان والا نبی آنے والا ہے۔آپ فوراً سمجھ گئے اور پیارے آقا کو بتایا کہ آپ کے پاس وہی فرشتہ آیا ہے جو حضرت موسیٰ پر وحی لایا تھا۔آپ کو خدا تعالیٰ نے نبوت عطا فرمائی ہے اور بلیوں کو ان کی قومیں بہت تکلیفیں دیا کرتی ہیں آپ کو بھی آپ کی قوم وطن سے نکال دے گی۔