گل — Page 67
67 کے اس نئے دین کو کس طرح ختم کریں۔عمر نے لا پرواہی میں تلوار نکالی اور کہا اس میں کیا مشکل ہے ابھی جا کر محمد کا کام تمام کر دیتا ہوں۔کافروں نے کہا کہ عمر اگر تم یہ کام کر دو تو ہم تمہیں سو اونٹ اور چالیس ہزار درہم انعام دیں گے۔عمر غصے میں بھرے ہوئے ہاتھ میں نکی تلوار لئے آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کی تلاش میں اس طرح نکلے جس طرح کوئی شیر شکار کے لئے نکلتا ہے۔راستے میں ایک صحابی نعیم بن عبد اللہ ملے جو مسلمان ہو چکے تھے عمر کو غصے میں دیکھ کر بولے آج کدھر کا ارادہ ہے اتنے ناراض ہو رہے ہو۔عمر نے کہا کہ محمد نے عرب میں نیا دین شروع کر کے فساد مچا رکھا ہے۔اُسے ختم کر کے یہ فساد ختم کرنے جا رہا ہوں۔نعیم عمر کو دیکھ کر ہنس دیئے اور بولے "عمر مصیبت ختم کرنے جا رہے ہو تو پہلے اپنے گھر سے تو کر لو۔تمہاری بہن فاطمہ اور بہنوئی سعید مسلمان ہو چکے ہیں“ عمر کو جیسے آگ لگ گئی۔تقریبا بھاگتے ہوئے بہن کے گھر پہنچے اس وقت آپ کی بہن اور بہنوئی حضرت خباب سے قرآن پاک کی آیات پڑھوا کر سن رہے تھے جو مٹی کے ٹھیکروں پر لکھی ہوئی تھیں۔اُن دنوں آج کل کی طرح کا غذ عام نہیں ملتا تھا لوگ درختوں کی چھال، جانوروں کی کھال، چوں، لکڑی کی تختیوں یا مٹی کی ٹھیکریوں پر لکھ لیتے۔عمر کو قرآن کی آواز آئی تو سمجھ گئے کہ اندر کیا ہو رہا ہے شیر کی طرح گرج کر بولے کہ دروازہ کھولو حضرت خباب تو چھپ گئے بہن نے دروازہ کھولا تو عمر نے دروازہ کھلتے ہی بہن اور بہنوئی کو اتنا مارا کہ اُن کے کپڑے پھٹ گئے۔بدن خون خون ہو گیا۔مارتے جاتے اور کہتے جاتے کہ محمد کا ساتھ چھوڑ دو۔حضرت فاطمہ نے آہستہ سے کہا کہ عمر جتنا مارنا چاہو مار لو مگر اب ہم اسلام نہیں چھوڑ سکتے۔عمر نے بہن کی طرف دیکھا جگہ جگہ سے خون بہ رہا تھا مگر نیا دین