گل

by Other Authors

Page 66 of 102

گل — Page 66

66 حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ اب ہم آپ کو مکہ میں پیدا ہونے والے ایک بہادر آدمی کی کہانی سناتے ہیں جو بڑے ہو کر مسلمانوں کے دوسرے خلیفہ بنے۔آپ کا نام عمر فاروق " تھا۔آپ بھی بچپن میں مکہ میں دوسرے بچوں کی طرح اونٹ چرایا کرتے تھے آپ کو تیز گھوڑا دوڑانے میں بہت مزا آتا تھا۔ورزش کر کر کے آپ کا جسم پہلوانوں کی طرح خوب مضبوط ہو گیا تھا اور اپنی طاقت کا اس قدر اندازہ تھا کہ دوسروں کو مقابلے کے لئے بلایا کرتے اور ہرا دیا کرتے۔آپ کو تقریر بہت اچھی کرنی آتی تھی۔آپ نے لکھنا پڑھنا بھی سیکھا تھا۔مکہ میں ایک میلہ لگا کرتا تھا جس کو عکاظ کہتے تھے۔اس میں طرح طرح کی دکانیں لگتیں اور کھیلوں کے مقابلے ہوتے تھے۔حضرت عمرؓ جوان ہوئے تو ہمیشہ ان مقابلوں میں اول آتے کشتی اور پہلوانی تو بہت آسانی سے جیت جاتے لوگ آپ سے ڈرنے لگے۔غصے کے تیز اور طاقتور تھے ایسے آدمی سے تو سب ڈرتے ہیں کہ کب اُٹھا کر پیچ دے۔آپ نے بڑے ہو کر تجارت شروع کی اکثر مکہ کے ارد گرد کے شہروں میں قافلے جایا کرتے تھے مگر حضرت عمر دوسرے ممالک بھی گئے۔اس طرح بہت ہی عقلمندی اور تجربے کی باتیں سیکھ لیں۔مکہ میں آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اسلام کی تعلیم دی تو لوگ آپ کے اور آپ کے ماننے والوں کے خلاف ہو گئے۔اور ان کو تکلیفیں دیا کرتے۔عمر کو اچھا مشغلہ ہاتھ آگیا تھا جس کے خلاف سن لیتے کہ مسلمان ہو گیاہ مار مار کر بھرکس نکال دیتے ان کے گھر میں ایک نوکرانی تھی وہ اس کو اتنا مارتے جب تھک جاتے تو ذرا دم لینے کو رک جاتے اور پھر مارنا شروع کر دیتے۔ایک دن کعبہ میں سب سردار جمع ہوئے اور سوچنے لگے کہ مسلمانوں