گل

by Other Authors

Page 18 of 102

گل — Page 18

18 پھوپھیاں آئیں، چا آئے کہ آپ بھی چلیں سب انتظار کر رہے ہیں۔جب آپ کسی کی بات مان کر بُت کے پاس جانے پر راضی نہ ہوئے تو آپ کے چچا حضرت ابو طالب آئے اور بڑے پیار سے سمجھایا کہ بت کی پوجا کرنی چاہئیے۔آپ ابھی نو عمر تھے مگر چچا سے بڑے ادب سے کہا چچا جان میں اس بات پر یقین نہیں رکھتا۔اس لئے نہ میں بہت کی سالانہ پوجا کی تقریب میں جاؤں گا اور نہ ہی اس موقع پر پکا ہوا کھانا کھاؤں گا۔آپ کے چچا نے دیکھا کہ محمد نہیں مانیں گے تو سب کو کہہ دیا کہ جس میں اس کی خوشی ہے اسے کرنے دو اور اسے بلا بلا کر پریشان نہ کرو۔بچہ : خدا تعالیٰ کی شان ہے کہ اُس نے پیارے آقا کو بچپن کی نا سمجھ عمر میں بھی بت پرستی سے بچالیا۔ماں : آپ غلط کام میں بچپن ہی سے شریک نہ ہوتے تھے بچپن کی عادتوں سے اندازہ ہوتا ہے کہ آپ شروع سے بہت بہادر اور ذہین بچے تھے۔جب آپ پندرہ سولہ سال کے تھے تو عرب میں ایک جنگ لڑی گئی اس کا نام حرب فجار تھا۔آپ نے جنگ میں حصہ تو نہیں لیا اپنے چچاؤں کو بڑھ بڑھ کر تیر پکڑاتے رہے۔خُدا تعالیٰ نے آپ کو بچپن میں بُرے کاموں سے روکے رکھا۔اور نیک کام کروائے آپ ابھی چھوٹے تھے خانہ کعبہ کی مرمت کا کام ہو رہا تھا۔آپ کو بھی پتھر اٹھا اُٹھا کر دینے کا موقع ملا۔ایک دن کیا ہوا آپ پتھر اٹھا اٹھا کر دے رہے تھے تو آپ کا تہہ بندا ٹک رہا تھا آپ کے چا حضرت عباس نے آپ کا تہہ بند اونچا کر دیا۔آپ کی پنڈلی کو ہوا لگی تو اس خیال سے کہ آپکی پنڈلی تنگی ہو رہی ہے اتنی شرم آئی کہ بے ہوش ہو گئے جب آپ کو ہوش آیا تو آپ