غنچہ — Page 72
72 گھبرانے کی کوئی ضرورت نہیں اپنا حوصلہ بلند رکھو اور حوصلے کی یہ تعلیم بھی زبان سے نہیں بلکہ اس سے بڑھ کر اپنے عمل سے دی جاتی ہے چھوٹے حو صلے ہمیشہ بد تمیز زبان پیدا کرتے ہیں بڑے حوصلوں سے زبان میں بھی تحمل پیدا ہوتا ہے اور زبان کا معیار بھی بلند ہوتا ہے حوصلے سے مراد ہرگز یہ نہیں کہ نقصان کی پرواہ نہ کرنے کی عادت ڈالی جائے۔۔۔حوصلے سے مراد یہ ہے کہ اگر اتفاقا کسی سے نقصان پہنچتا ہے تو اس پر برداشت کیا جائے بچوں کو جب حوصلہ سکھاتے ہیں تو چیزوں کی قدر کرنا بھی سکھائیں جو بندے کا شکر کرنا نہ سیکھے وہ خدا کا کہاں کر سکتا ہے۔۔۔غریب کی ہمدردی اور دُکھ دُور کرنے کی عادت چوتھی بات غریب کی ہمدردی اور دُکھ کو دور کرنے کی عادت ہے یہ بھی بچپن ہی سے پیدا کرنی چاہیے۔بچوں کو نرم مزاج مائیں غریب کی ہمدردی کی باتیں سناتی ہیں اور غریب کی ہمدردی کا رجحان اُن کی طبیعتوں میں پیدا کرتی ہیں اگر کسی بچے سے کوئی ایسا کام کروایا جائے جس سے کسی کا دُکھ دور ہوتو اُس کو ایک لذت محسوس ہو گی۔آپ اپنے بچوں کو اچھی کہانیاں سُنا کر سبق آموز واقعات سنا کر غریبوں کی ہمدردی کی طرف مائل کریں۔بچپن میں اگر اس کی عادت پڑ جائے تو اس کے نتیجے میں بچہ جوادت محسوس کرتا ہے وہ اس نیکی کو دوام بخش دیتی ہے۔مضبوط عزم اور ہمت کی ضرورت مضبوط عزم اور ہمت اور نرم دلی اکٹھے رہ سکتے ہیں اگر یہ اکٹھے نہ ہوں تو ایسا انسان کمزور تو ہو گا با اخلاق نہیں ہو گا۔بزم دلی کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ انسان مشکلات کے وقت کمزور ہو یا بڑھتی ہوئی مشکلات کے سامنے ہمت ہار جائے بچپن سے یہ خلق پیدا کرنا چاہیے کہ ہم نے شکست نہیں کھانی۔حضرت اقدس بانی سلسلہ عالیہ احمدیہ کے متعلق جو فقرہ ہے یہ ایک عظیم الشان خلق پر روشنی ڈالتا ہے کہ ”میری سرشت میں ناکامی کا خمیر نہیں۔(خلاصہ خطبہ جمعہ 24 نومبر 1989