مرزا غلام قادر احمد — Page 90
90 تکلیف ہو۔خوشگوار باتیں کرتا جن سے لطف آئے دلچسپ انداز جو مزے دار لگتا۔بزرگوں کے سامنے مودب رہنے اور توجہ سے بات سننے کا انداز بھلا لگتا۔قادر کی خاموشی کی عادت ایک لطیفہ بن گئی۔چھ سال کا تھا۔اسکول سے واپسی پر دیکھا کہ میر داؤد احمد صاحب کے گھر شامیانے لگے ہیں سمجھا کہ یہاں کوئی شادی ہو گی۔گھر آیا تو کوئی گھر پر موجود نہ تھا۔دراصل شامیانے اس لئے لگے تھے کہ ملک عمر علی صاحب کی وفات ہو گئی تھی اور سب تعزیت کے لئے گئے ہوئے تھے۔قادر کو جب کوئی گھر پر نہ ملا تو ”شادی“ والے گھر جانے کے لئے اپنی اچکن اور شلوار پہنی اور وہاں پہنچ گیا۔اچکن کافی چمک د مک والی تھی۔سب ہی اس بچگانہ دانشمندی پر مسکرا دیئے خاص طور پر اس کے چچا مرزا حمید احمد صاحب جو اسے بہت پیار کرتے تھے۔بڑے ہونے تک جب بھی سامنے آتا تو کہتے۔قادر اچکن نہیں پہنی؟ اور وہ خاموشی سے مسکرا دیتا۔ایک دفعہ محترمہ قدسیہ بیگم صاحبہ نے کوئی واقعہ سُنا جس میں کسی بھائی نے اپنی بہن سے اچھا سلوک نہ کیا تھا۔دل میں خوف سا آیا کہ ایسا نہ ہو اُن کے بیٹے بھی بہنوں سے بُرا سلوک کریں۔بڑا بیٹا محمود ملک سے باہر تھا۔قادر کو اپنے پاس بُلایا اور سمجھایا کہ بچے بہنوں سے اچھا سلوک کرتے ہیں خاص طور پر چو چو کا نام لیا، جو اُس سے دس گیارہ سال بڑی تھی، کہ بیٹے کچھو چھو کو اپنی بیٹی سمجھنا۔آٹھ نو سال کے قادر نے سنجیدگی سے بات سنی ، سمجھی اور سر جھکا کر کہا: ”اچھا“۔ساری عمر اس بات کا خیال بھی رکھا اور بہنوں سے ذمہ دارانہ