مرزا غلام قادر احمد — Page 57
57 إِنَّ اللَّهَ لَا يُبَشِّرُ الْأَنْبِيَاء وَالْأَوْلِيَاء بِذُرِّيَّةٍ إِلَّا إِذَا قَدَرَ تَولِيدَ الصَّالِحِين (روحانی خزائن جلد 5 صفحہ 578 حاشیہ) یعنی اللہ تعالیٰ انبیاء اور اولیاء کی ذریت کی بشارت تب ہی دیتا ہے جب وہ صالح ذریت کا پیدا ہونا مقدر فرماتا ہے۔اس پاک رشتہ ازدواج کے لئے قادر و مقتدر خدا نے حضرت مسیح موعود مرزا غلام احمد قادیانی علیہ السلام کو بشارت دی۔أشْكُرُ نِعْمَتِي رَأَيْتَ خَدِيجَتِي (براہین احمدیہ، روحانی خزائن جلد 1 صفحہ 666) خدا تعالیٰ کی نعمت کا شکر کرو میری خدیجہ تمہیں ملنے والی ہے۔1884ء وہ مبارک سال تھا۔جس میں اللہ تعالیٰ نے اس زمانے کی تقدیر بنانے والے جوڑے کی شادی کا شہر دتی میں خود انتظام فرمایا۔مبارک نسلوں کی ماں بننے کی بشارتوں کے جلو میں حضرت سیدہ نصرت جہاں بیگم 17 نومبر کو حرم مسیح موعود علیہ السلام میں داخل ہوئیں۔حضرت اقدس نے 20 فروری 1886 کے اشتہار میں تحریر فرمایا :- ” خدائے کریم جل شانہ نے مجھے بشارت دے کر کہا کہ تیرا گھر برکت سے بھرے گا اور میں اپنی نعمت تجھ پر پوری کروں گا اور خواتین مبارکہ سے جن میں سے تو بعض کو اس کے بعد پائے گا۔تیری نسل بہت ہو گی اور میں تیری ذریت کو بہت بڑھاؤں گا اور برکت دوں گا مگر بعض ان میں سے کم عمری میں فوت بھی ہوں گے اور تیری نسل کثرت سے ملکوں میں پھیل جائے گی اور ہر ایک شاخ تیرے جدی بھائیوں کی کائی جائے گی۔تیری ذریت منقطع نہیں ہو گی اور آخر دنوں تک سرسبز رہے گی خدا