مرزا غلام قادر احمد — Page 490
490 ٹھیک بھی کہتے تھے اور غلط بھی۔بظاہر زخم بھر بھی گیا لیکن کبھی لگتا ہے کہ نہیں! گھاؤ تو بہت گہرا ہے یہ راہ تو بہت کٹھن ہے۔قدم قدم پر اس کی یاد مجھے تو روکتی ہے ہر لمحہ اس کا خیال میرے ساتھ ہے۔عجیب متضاد کیفیات میں یہ وقت گزر رہا ہے۔تقریباً تین سال کا عرصہ گزر گیا پیچھے مڑ کر دیکھتی ہوں کیا واقعی قادر چلا گیا؟ لیکن وہ گیا کہاں ہے؟ وہ تو ہمارے پاس ہے۔ہمارے گھر میں اس سے متعلق باتیں روزمرہ کے معمول کے مطابق ہوتی ہیں۔اس کی Study اب بھی بابا کا کمرہ کہلاتی ہے۔کھانے کی میز پر بچے ہر روز اپنی اپنی باری پر بابا کی کرسی پر بیٹھنا نہیں بھولتے۔اس کی تصویر میں ہر طرف لگی ہیں۔کوئی دن ایسا نہیں جب اس کا ذکر نہ چھڑتا ہو۔لوگوں کے درمیان وہ سنجیدہ نظر آنے والا شخص گھر میں بے حد بے تکلف تھا۔ہم اس کی مزاح سے بھر پور باتیں یاد کر کے ہنستے ہیں اس کی بے ساختہ نہی آج بھی ذہنوں میں تازہ ہے۔اپنے گھر میں اس پورے عرصہ میں ہمیشہ وہ مجھے اپنے درمیان محسوس ہوتا رہا۔شہید کے زندہ ہونے کے ایک معنی شاید یہ بھی ہوں۔پھر جب کبھی دوسری کیفیت مجھ پر طاری ہوتی ہے اس کا غم میرا درد بن کر حد سے گزرنے لگتا ہے اور آنسوؤں کی ایک نہ ختم ہونے والی جھڑی لگ جاتی ہے تو پھر میں سوچتی ہوں کہ کیا میری توجہ اپنے رب کے اُن احسانات کی طرف گئی ہے جو اس نے قادر کو ہم سے لینے کے بعد ہم پر کئے ہیں؟ قادر کی شہادت کی خبر سننے کے بعد سے لے کر اگلے چند دن تک میری زبان پر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے شعر کا یہ مصرع بار بار آتا رہا۔وو حیلے سب جاتے رہے اک حضرت تو اب ہے“ واقعی وہ کیسا اپنے بندوں پر مہربان ہے اسی نے ہمیں سنبھالا ہے اور ایسے سنبھالا ہے گویا ہم اس کی گود میں ہوں۔اُس نے ایسے طور سے ہمارے