مرزا غلام قادر احمد — Page 429
429 لا رہی ہے۔اس کے ساتھ ساتھ مرزا غلام قادر شہید مجلس خدام الاحمدیہ پاکستان میں مہتم مقامی، مہتم مال اور مہتم تجنید کے طور پر بھی خدمات بجا لاتے رہے۔نیز ربوہ کے سیکریٹری وقف کو کے طور پر آپ نے تقریباً ساڑھے تین ہزار واقفین کو بچوں کو محلوں کی سطح پر منظم کیا۔ان کا کمپیوٹر Data تیار کیا اور ان کی تعلیم و تربیت کے لئے خصوصی جد وجہد کی جس کے تحت ربوہ کے تمام محلہ جات کے واقفین کے لئے باقاعدہ کلاسز کا اہتمام کیا۔اس کے ساتھ آپ نے واقفین کو بچوں کو غیر ملکی زبانیں سکھانے کے لئے ادارے کا قیام بھی کیا۔اس ادارہ میں اللہ کے فضل سے 80 سے زائد واقفین کو 5 غیر ملکی زبانیں سیکھ رہے ہیں۔ابھی حال ہی میں آپ کے زیرِ انتظام ربوہ کے لئے واقفین کو کے مقابلے پہلے محلوں کی سطح پر اور پھر ربوہ کی سطح پر منعقد ہوئے تھے۔الغرض صاحبزادہ صاحب نہایت محنتی اور خاموش طبع کا رکن تھے اور جو کام ان کے سپرد ہوتا تھا کمال اخلاص اور بے لوث خدمت کے ساتھ بجالاتے تھے۔14 اپریل 1999ء کو مرزا غلام قادر مرحوم کو ایک گہری سازش کے تحت چند خطرناک مجرموں نے اغوا کیا۔ان کا منصوبہ جماعت احمدیہ کو ملک گیر فسادات میں ملوث کرنا تھا۔صاحبزادہ مرزا غلام قادر نے جان کی بازی لگا کر دشمن کا یہ منصوبہ ناکام بنا دیا۔وہ آخر دم تک ان خطر ناک مجرموں کے خلاف جدو جہد کرتے رہے۔اسی دوران ان پر سخت تشدد ہوا اور آپ کو شدید جسمانی اذیت کا سامنا کرنا پڑا مگر آپ نے ہمت نہیں ہاری اور بالآخر جان کی قربانی دے کر ہزاروں بلکہ لاکھوں احمدیوں کی زندگیوں کو بچانے کا باعث ہوئے اور اپنے اخلاص اور وفا سے سلسلہ کی تاریخ میں ایک نیا باب رقم کیا۔حضرت خلیفہ اسیح الرابع نے صاحبزادہ صاحب کا