مرزا غلام قادر احمد — Page 410
410 روحانیت کے اعلیٰ ترین مقامات پر جا پہنچے اور تاریخ احمدیت میں ایک روشن ستارے کی طرح ہمیشہ ہمیشہ کے لئے زندہ جاوید بن گئے تو میں مرحوم پر فخر کریں گی کہ ہرگز نمیرد آنکه دلش زنده شد بعشق ثبت است بر جریده عالم دوام ما مجھے اور سلیمہ کو وہ دن یاد آتے ہیں جب افریقہ تشریف لائے تو عزیز شہید مرحوم بہت ہی چھوٹا ننھا بچہ تھا اور ہماری نینو کا ہم عمر تھا دونوں آپس میں لڑتے جھگڑتے تو ہمیں ان کو دیکھ کر مزہ آتا عزیز شہید مرحوم کی معصوم شرارتیں یاد آتی رہیں۔اب اس بات پر دل فخر محسوس کرتا ہے کہ ہم نے بھی زندگی کے کسی موڑ پر شہید مرحوم کی خدمت کی سعادت پائی۔آپ اور آپ کی محترمہ بیگم صاحبہ اور بچوں کو جو صدمہ پہنچا ہے اس کا صحیح ادراک تو ہماری سمجھ سے بالا ہے کہ بیٹے کی جواں مرگ شہادت اگر چہ باعث خوشی بھی ہے لیکن غم کا سمندر بھی چھوڑ جاتا ہے۔یقین جانیں عزیز پیارے قادر شہید کی موت نے ہمیں غم کی اتھاہ گہرائیوں میں دھکیل دیا ہے۔ہم ان کو یاد کر کے بارہا روتے بھی رہے اور دل ان کے لئے اور آپ کے لئے دُعاؤں سے معمور رہا۔مولیٰ کریم مرحوم کے مقام شہادت کو بلند سے بلند تر فرمائے ان کا روحانی اتصال اپنے عظیم دادا جان حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے کرے اور آپ سب کو اس صدمہ کو برداشت کرنے اور صبر کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔محترم نائک محمد صاحب - آسٹریلیا لاریب کہ وہ مجھے اپنے بیٹوں اور بھائیوں ہی کی طرح بے حد عزیز تھا۔وہ میرا ہونہار شاگرد بھی تھا بچپن ہی سے اپنے بزرگ ترین دادا اور