مرزا غلام قادر احمد

by Other Authors

Page 34 of 503

مرزا غلام قادر احمد — Page 34

34 امیر نے کیا کیا کہ ایسے معصوم کو کمال بیدردی سے قتل کر کے اپنے تئیں تباہ کر لیا۔اے کابل کی سر زمین! تو گواہ رہ کہ تیرے پر سخت جرم کا ارتکاب کیا گیا۔اے بد قسمت زمین تو خدا کی نظر سے گر گئی، کہ تو اس ظلم عظیم کی جگہ ہے۔( تذكرة الشهادتين، روحانی خزائن جلد 20 صفحہ 74) اُس سر زمین پر چند احمدی شہید کئے گئے تھے اور اُن کے لواحقین کو دکھ دیے گئے تھے۔اور اس سر زمینِ پاکستان پر صرف اس صدی کے آخر تک کتنے معصوم خون بہائے گئے۔خدایا تو رحم کر اور اپنے غضب کو دھیما کر ورنہ ظلم عظیم کی اس جگہ کو کون بچائے گا؟ عالمگیر جماعت احمد یہ تک یہ اندوہناک خبر حضرت اقدس خلیفہ المسیح الرابع ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کے خطبہ جمعہ کے ذریعے پہنچی۔حضور کا لہجہ گلو گیر تھا مگر کمال ضبط سے آپ نے قرآن و حدیث سے فلسفہ شہادت پر روشنی ڈالی اور قادر کی شہادت کا ذکر ایسے انداز سے کیا کہ خطبہ سننے کے بعد ہر دل میں خدا تعالیٰ کی راہ میں جان دینے کا پُر ولولہ جذبہ پیدا ہوا۔آپ نے 16 اپریل 1999ء بمطابق 16 رشہادت 1378 ہجری شمسی بیت فضل لندن کے منبر پر طلوع ہو کر حسبِ معمول فنا فی اللہ انداز میں خطبہ ارشاد فرمایا۔