مرزا غلام قادر احمد — Page 332
332 یہ لوگ روشنی کے مینار تھے اور جتنا بھی گھپ اندھیرا ہو جائے یہ مشعلیں نور بکھیرتی رہیں گی اور دنیا ان کے اخلاق عالیہ اور حسنات سے تا قیامت فیض پاتی رہے گی۔عجب گوہر ہے جس کا نام تقویٰ مبارک وہ ہے جس کا کام تقویٰ ہے حاصلِ اسلام تقویٰ خدا کا عشق مے اور جام تقویٰ حضرت بانی سلسلہ عالیہ احمدیہ نے حضرت سید عبداللطیف صاحب سید گاہ افغانستان کے واقعہ قر بانی پر تحریر فرمایا تھا کہ : ” اے عبداللطیف تیرے پر ہزاروں رحمتیں کہ تو نے میری زندگی میں ہی اپنے صدق کا نمونہ دکھایا اور جو لوگ میری جماعت سے میری موت کے بعد رہیں گے میں نہیں جانتا کہ وہ کیا کام کریں گئے۔آندھیاں اور زلازل ہم پر پہلے بھی چل چکے ہیں مگر باوجود اپنی کمزوریوں کے اور باوجود اپنی خطا شعاریوں کے ہم یہ فیصلہ کر چکے ہیں کہ گرتے پڑتے اسی مستقیم راہ کو اختیار کریں گے جسے 1901ء میں میاں عبدالرحمن نے اور 14 جولائی 1903ء کو حضرت شہزادہ عبداللطیف نے اور 31 اگست کو حضرت مولوی نعمت اللہ خان صاحب نے اور 5 فروری 1925ء کو قاری نور علی صاحب اور مولوی عبدالحلیم صاحب نے افغانستان میں اور اس کے بعد سینکڑوں احمدیوں نے ملک پاکستان میں بھی اور بیرون پاکستان بھی اختیار کیا اور وہ احیاء میں شمار ہوئے اور اس صدی کے آخر میں میاں غلام قادر اسی گروہ جاں نثاراں میں شامل ہوئے۔