مرزا غلام قادر احمد — Page 331
331 لطیف کے صبر جمیل کا ذکر کرنے سے نہیں رہ سکتا۔1903ء کے سنگساری کے واقعہ کے وقت ان کے اس بیٹے کی عمر اندازاً آٹھ ، نو سال تھی ان کے والد کو تو 14 / جولائی 1903ء کو حد درجہ سفا کا نہ طریق پر قتل کر دیا گیا تھا۔لیکن خاندان کے بقیہ افراد پر بھی ظلم وستم کی وہ قیامت ڈھائی گئی جس کے سننے سے بھی انسان پر وحشت طاری ہو جاتی ہے اور جسم کے رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں۔خوشبوئے تقسم چھین سکی نہ موت بھی جن کے ہونٹوں سے ان دیوانوں کو تکتی ہیں حیرت سے ستم کی زنجیریں یہ نوٹ صاحبزادہ صاحب کی والدہ ماجدہ کے دردناک مگر نصیحت آموز مضمون سے متاثر ہو کر لکھا ہے۔میرا یہ مختصر مضمون اس بلند مرتبت بطل احمدیت کی حسنات گنوانے کی کاوش تو نہیں ہے۔لیکن سیّدہ ممدوحہ کے مضمون میں جو یہ بیان آیا کہ امی اس گاڑی میں آپ نے کوئی کام نہیں کرنا۔یہ انجمن کی گاڑی ہے اور مجھے چھوڑ نے آئی ہے اس واقعہ سے موصوف کی امانت دیانت سلسلہ احمدیہ کے اموال کی حفاظت کا گہرا احساس اور تقویٰ کی باریک راہوں کے متلاشی ہونے پر جو روشنی پڑتی ہے وہ کسی تبصرے کی محتاج نہیں۔میاں غلام قادر احمد صاحب کو اس قدر احساس امانت و دیانت اپنے عالی مرتبت دادا عاشقِ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم آسمان روحانیت کے چاند حضرت مرزا بشیر احمد صاحب سے وراثت میں ملا ہوا تھا جو قادیان ریلوے اسٹیشن کے پلیٹ فارم پر اس وقت تک داخل نہ ہوئے جب تک کہ ان کے لئے پلیٹ فارم کا ٹکٹ خریدا نہ گیا۔