مرزا غلام قادر احمد

by Other Authors

Page 298 of 503

مرزا غلام قادر احمد — Page 298

298 والسلام خاکسار مرزا طاہر احمد خليفة اصیح الرابع مفد قادر کی شہادت کے وقت نورالدین اور محمد مصلح صرف اڑھائی سال کے تھے۔انہیں اپنے محبت کرنے والے باپ کا کچھ بھی یاد نہیں۔جبکہ سطوت اور کرشن کے دلوں میں اپنے بابا کی یادیں ایک قیمتی سرمائے کی طرح نقش ہیں۔اپنے نصیب کی اس دولت کو وہ بہت عزیز رکھتے ہیں اور ذکر کرتے رہتے ہیں۔سطوت نے ماچس کی ڈبیوں سے ایک مکان بابا کی مدد سے بنایا تھا۔جو ایک نمائش میں رکھنا تھا۔باپ بیٹی کی مشترکہ محنت سے بنا ہوا یہ کھلونا مکان جب نمائش میں رکھا گیا تو باپ شہید ہو چکا تھا۔بچوں نے ایک گفتگو میں بتایا: بابا ہمیں ہفتے میں دو تین بار زمینوں پر لے جاتے تھے جہاں ہم کھلی فضا میں کھیلتے اور اپنے ٹیوب ویل پر نہاتے کبھی کبھی سوئمنگ پول پر لے جاتے تھے جہاں خود بھی ہمارے ساتھ نہاتے تھے بابا ہی نے ہمیں سوئمنگ سکھائی تھی۔ی۔جب ہم پاکٹ منی کے طور پر پیسے مانگتے تو آپ دے دیتے جس میں سے ہم کچھ خرچ کر لیتے اور بقیہ بابا نے جو ایک غلّہ لا کر دیا تھا اس میں ڈال دیتے جس میں سے ضرورت کے وقت ہم پیسے نکال لیتے اور کبھی کبھی کہانی بھی سناتے تھے گھر میں ہمارے ساتھ فٹ بال اور کرکٹ کھیلتے آپ ہمیں بہت پیار کرتے۔چھٹیوں میں