مرزا غلام قادر احمد — Page 26
26 14 اپریل 1999ء صبح قریباً 9بجے صاحبزادہ مرزا مجید احمد کی کوٹھی الفارس، واقع دار لصدر ربوہ میں فون کی گھنٹی بجی دل دہلا دینے والی اجنبی آواز آئی۔میں سول ہسپتال چینوٹ سے بول رہا ہوں آپ کا بیٹا شدید زخمی حالت میں ہے۔اس نے اپنے ابا کا نام اور فون نمبر بتایا ہے اور کہا ہے کہ ڈاکٹر مبشر کو لے کر جلدی پہنچیں۔اُمید اور نا اُمیدی کی جان تو کشمکش میں درد و الحاح سے خدائے حی و قیوم سے صحت و سلامتی کی دعائیں مانگتے ہوئے سول ہسپتال پہنچے تو یہ دردناک حقیقت معلوم ہوئی کہ خدا تعالیٰ نے خاندانِ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے مایہ ناز فرزند کو شہیدانِ وفا میں شامل کر لیا ہے۔راہ مولا میں قُربان ہو چکے تھے۔ہر دن خالق کائنات سے اپنی الگ تقدیر لے کر طلوع ہوتا ہے۔کس کو خبر تھی کہ 14/ اپریل اپنے ساتھ کیا نوشتہ تقدیر لایا ہے۔کون بزمرہ شہداء لکھا جا چکا ہے۔کس ماں کا جگر گوشہ خدا کے حضور جان کا نذرانہ پیش کر دے گا۔کس کم عمر بچوں کی ماں کے نصیب میں شہید کی بیوہ ہونا لکھا ہے۔تحریکِ جدید کے کوارٹر نمبر گیارہ میں معمول کی صبح ہوئی تھی۔قادر اُن کی بیگم نصرت اور بچے ناشتے کی میز پر حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کے سفر سیالکوٹ کی