مرزا غلام قادر احمد — Page 262
262 محترم مولانا راجیکی صاحب کے الفاظ پر غور کریں: دُنیا میں دُنیا دار لوگ تو اسباب اور مواقع پر نظر رکھتے ہوئے دل کی تسکین کی صورت محسوس کرتے ہیں لیکن خدا تعالیٰ کے انبیاء اور مرسلین کے پاس صرف خالق الاسباب کا قول یا کلام بطور بشارت کے ہوتا ہے اور خالق الاسباب ایک نئی دنیا اور جہان اُن کے لئے پیدا کر کے دکھا دیتا ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی سوانح اس امر کی تصدیق کے لئے کافی شہادت کی صورت اپنے اندر رکھتی ہے۔" یہ بشارتیں مجھے ہمت دلاتی ہیں۔ورنہ میں ہمت والی نہیں ہوں۔میری ہمت صرف خدا کے آگے ٹوٹتی ہے ہمیشہ سے عادت ہے خود جھیلنا یا خدا سے Share کرنا۔تو ہے سُورج تجھے معلوم کہاں رات کا دکھ تو کسی روز مرے گھر میں اُتر شام کے بعد محترم راجیکی صاحب کا ذکر خیر ہوا ہے تو ایک اور واقعہ یاد آ گیا ہے۔جو میں عام طور پر حجاب کی وجہ سے کسی کو سُناتی نہیں ہوں۔ہوا یوں کہ ایک دفعہ مولانا صاحب کے پاس دُعا کے لئے گئی میرے ساتھ خاندان کی اور خواتین بھی تھیں میری طبیعت ذرا آگے آگے ہونے کی نہیں جب سب مل چکیں تو میں آگے بڑھی اپنا تعارف کروایا اور دُعا کے لئے درخواست کی آپ اتنے تپاک سے ملے اور اتنے احترام کے الفاظ میرے لئے استعمال کئے کہ میں شرمندہ ہوگئی۔آپ نے فرمایا کہ: میں آئینہ کمالات اسلام پڑھ رہا تھا۔اس میں وو حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا ہے کہ ” خدا تعالیٰ