مرزا غلام قادر احمد — Page 244
244 استخارہ میں ایک خواب دیکھا تھا جس کا مطلب ہے عمر طویل ہوگی ، ہر دل عزیز ہوگا اُونچی شان ہو گی شہرت پائے گا مجھے ان کی خواب یاد آتی تھی۔اور تسلی ہوتی تھی۔مگر کیا پتہ تھا یہ طویل عمری اس کی قر بانی ہے۔اس سے طویل کس کی عمر ہوگی۔شہرت بھی پا گیا۔ہر دلعزیز بھی تھا۔موت بھی شان کی تھی۔خوابوں کی تعبیریں خواب پوری ہونے کے بعد پتہ لگتی ہیں۔چینوٹ اسپتال پہنچے تو چند منٹ بعد مبشر نے کہا کہ آپ لوگ واپس جائیں ہم بعد میں آتے ہیں۔میں سمجھ گئی مگر مبشر کے منہ سے یہ الفاظ سننے کی ہمت نہیں تھی۔نہ مبشر کو کہنے کی ہمت تھی کہ قادر کی وفات ہو گئی ہے دو گھنٹے پہلے وہ زندہ سلامت مجھ سے جدا ہوا تھا۔وہ تو کل لاہور جا رہا تھا۔دل ماننے کو تیار نہیں تھا۔مگر حقیقت یہی تھی۔میں نے کہا خدایا جب تک اس میں جان تھی، مچھلی کی طرح تڑپی ہوں جتنی بھیک تجھ سے مانگ سکتی تھی، مانگی ہے۔اب تیرا حکم نازل ہو چکا ہے اب میں صبر کروں گی۔میں روئی نہیں۔میں کار میں آکر بیٹھ گئی۔مگر میں نے اتنا صبر کیوں کیا تھا؟ خدا نے اتنا صبر کرنے کو تو نہیں کہا۔مجھے سخت دُکھ ہے میں مبشر سے کہتی مجھے اس کے پاس لے جاؤ۔ابھی وہ میری بات سُن لے گا۔کچھ دیر بعد تک کہتے ہیں روح کا تعلق رہتا ہے۔وہ چند قدموں کے فاصلے پر لیٹا تھا۔یہ کیسا صبر تھا؟ یہ میں نے کیوں کیا تھا؟ بعض دفعہ مبشر پر گلہ ہوتا ہے۔وہی مجھے لے جاتا کہ آخری بار اپنے بچے کو دیکھ لیں اس نے دیکھا تھا۔میں واویلے نہیں ڈال رہی تھی۔میں خشک آنکھوں سے گھر میں داخل ہوئی نوکروں کو منع کیا کوئی آواز نہ نکالے۔ہیرا بیٹا