مرزا غلام قادر احمد — Page 243
243 کہ کتنا گہرا گھاؤ ہے مگر مجھے لگتا ہے کہ اس کا غم مجھ سے بھی زیادہ ہے حالانکہ میرے اپنے غم کا کوئی کنارہ نہیں۔14 / اپریل ایک قیامت بن کر آئی تھی۔صبح آٹھ بجے قادر آیا امی گاڑی لے کر جا رہا ہوں۔میں نے کہا۔جاؤ بیٹے مگر دس بجے ابا نے بینک جانا ہے۔( قادر دوسرے دن لاہور جا رہا تھا کچھ خریدنے کے لئے اسی کے لئے رقم نکلوانی تھی) کہتا دس بجے نہیں ساڑھے دس بجے تک آ جاؤں گا۔مگر تقدیر ہنس رہی تھی۔کاش مجھے وہم ہی آ جاتا۔میں پیار کر کے رخصت کرتی۔کو کے چنیوٹ ہسپتال سے فون آگیا کہ آپ کا بیٹا شدید زخمی حالت میں ہے حالت نازک ہے۔اس نے اپنے ابا کا نام اور فون نمبر دیا ہے کہ ڈاکٹر مبشر کو لے کر فوراً پہنچیں۔کار تو قادر کے پاس تھی بے بسی کی حالت تھی۔شکر ہے بڑی بیٹی جہلم سے اتفاقا آئی ہوئی تھی۔پتہ نہیں کس طرح کارمنگوائی ایک کار نصرت کو لینے گئی میں اور میرے میاں عزیزم مرزا نصیر احمد (داماد) کے ساتھ چینوٹ روانہ ہوئے۔لگتا تھا چینوٹ ہزاروں میل دور ہے مچھلی کی طرح تڑپ رہی تھی ایک دُعا ختم نہیں ہوتی تھی کہ دوسری شروع کر دیتی۔کبھی مسنون دُعا ئیں، کبھی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی دُعائیں کبھی بڑی امی (نواب مبارکہ بیگم ) کی زبان میں تقدیر یہی ہے تو تقدیر بدل دے تو مالک تحریر ہے ” تحریر بدل دے خدا کو واسطے دیے خدا تو سچے وعدوں والا ہے۔اپنے نیک بندے کو تُو نے بشارت دی تھی کہ اس کی عمر لمبی ہو گی۔تو اس نیک بندے کی لاج رکھ لے۔میں تو گناہ گار ہوں۔صوفی غلام محمد صاحب نے اس کی شادی کے