مرزا غلام قادر احمد

by Other Authors

Page 185 of 503

مرزا غلام قادر احمد — Page 185

185 مجھے دو تین دفعہ ان کے دفتر جانے کا بھی اتفاق ہوا نہایت سادہ ترتیب تھی صرف چند کرسیاں اور ایک بڑی سی میز تھی جو مختلف قسموں کی فائلوں سے بھری رہتی تھی اور میاں صاحب بہت انہماک سے اپنے کام میں مصروف ہوتے۔ان کی شخصیت میں سادگی بہت نمایاں تھی۔معمولی کام بھی اپنے ہاتھ سے کرنے میں عار محسوس نہ کرتے تھے۔انہوں نے کبھی احساس نہیں ہونے دیا کہ وہ اپنے اندر علم کا ایک سمندر چھپائے ہوئے ہیں۔ہر شخص سے اس کی سطح پر آکر بات کرتے۔آج ان کے نہ ہونے سے ایک ایسا خلا پیدا ہو چکا ہے جس کو شعبے کا ہر شخص محسوس کر رہا ہے کیونکہ ان کی خدمات اور مہربانیوں کا سلسلہ ہر جگہ پھیلا ہوا تھا جو عظیم قُربانی انہوں نے جماعت کے لئے دی شاید صرف وہی اس کی اہلیت رکھتے تھے۔ان کی اس قربانی نے نہ صرف جماعت کو آنے والے فتنوں سے محفوظ رکھا بلکہ ان کو بھی ہمیشہ کے لئے زندہ جاوید کر دیا۔زندہ قومیں اپنے جانثاروں کو ہمیشہ یاد رکھتی ہیں کیونکہ وہی ان کی زندگی کا باعث ہوتے ہیں جو اپنے لہو کی زکوۃ دے کر اپنی قوم کو بچاتے ہیں اب یہ ہمارا فرض ہے کہ ہم ان کی روایات کو لے کر آگے بڑھیں اور اپنی عبادتوں میں ان کو اور ان کے اہل وعیال کو یاد رکھیں اور مرزا غلام قادر جیسے دل اور دماغ پیدا کریں جنہوں نے اپنی جان تو لٹا دی لیکن مینارہ عرش کو چھو لیا۔اس کو کس روشنی میں دفنائیں اس کو کس خواب کا بدن ہم دیں وہ جو خوشبو میں ڈھل گیا یارو اس کو کس پھول کا کفن ہم دیں