مرزا غلام قادر احمد

by Other Authors

Page 177 of 503

مرزا غلام قادر احمد — Page 177

177 جو مختلف زبانیں بولتی اور سمجھتی ہیں۔جب کہ اسلام اور احمدیت کے بنیادی مآخذ عربی اور اُردو زبان میں دستیاب ہیں۔اس لئے ضروری ہے کہ جہاں یہ بچے اُردو اور عربی زبان میں مہارت رکھتے ہوں۔وہاں غیر قوموں سے رابطہ کے لئے کم از کم ایک زائد زبان میں بھی مہارت رکھیں۔اسی غرض سے حضور ایدہ اللہ تعالیٰ نے بچوں کے لئے اُردو اور عربی زبان کو لازمی قرار دیا۔اور اس کے ساتھ ساتھ مقامی زبان کے علاوہ ایک بین الاقوامی زبان سیکھنے کی بھی ہدایت فرمائی۔چنانچہ جیسے ہی یہ بچے اسکول میں جانے کی عمر کو پہنچنے لگے ان کے لئے زبانوں کی تدریس کے انتظامات کی منصوبہ بندی بھی شروع ہونے لگی۔اگر روایتی طریقہ پر ان ساٹھ سے زائد ممالک میں پھیلے ہوئے مختلف زبانوں سے تعلق رکھنے والے بچوں کو صرف ایک اضافی زبان سکھانا ہی مقصود ہوتی تو اس کے لئے لاتعداد ماہرین اور بے شمار وسائل درکار تھے۔اسی دوران محض اللہ تعالیٰ کے فضل سے جہاں جماعت کو MTA کی صورت میں ایک مرکزی تدریسی نظام مہیا ہو گیا وہاں حضور ایدہ اللہ تعالیٰ نے یہ منصوبہ بھی پیش کیا کہ ان بچوں کو بغیر کسی دوسری زبان کی مدد کے فطری طریقہ پر زبان سکھائی جائے۔یعنی وہ طریق جس پر بچہ اپنے والدین سے از خود سیکھتا ہے۔چنانچہ اس طریق کے تعارف کے طور پر حضور ایدہ اللہ تعالیٰ نے خود MTA کے ذریعہ اُردو زبان سکھانے کے پروگرام شروع کئے۔جس کے بعد دیگر اہلِ زبان کے ذریعہ عربی، ڈچ، چائنیز، ٹرکش، سویڈش اور فرینچ زبان سکھانے کے پروگرام بھی ایم ٹی اے پر نشر کئے جانے لگے۔اس کام کی اہمیت کا اندازہ اس امر سے بھی ہوسکتا ہے کہ واقفین کو