مرزا غلام قادر احمد

by Other Authors

Page 172 of 503

مرزا غلام قادر احمد — Page 172

172 پیرا یہ اظہار ملاحظہ ہو: جہاں تک یادوں کا تعلق ہے۔تو خاکسار کی اولین یاد تو اُس وقت کی ہے جب شہید مرحوم کی عمر یہی کوئی دس بارہ سال کے لگ بھگ ہی ہوگی۔اپنے ابا محترم صاحبزادہ مرزا مجید احمد صاحب سلمہ، کی رخصت کی درخواست لے کے آئے تھے۔جو اس وقت تعلیم الاسلام کالج ربوہ میں پروفیسر اور شعبہ تاریخ کے صدر تھے۔یوں لگا جیسے کوئی نورانی وجود خاموشی سے پرنسپل کے کمرے میں اُتر آیا ہو۔پورا نقشہ باوجود پیرانہ سالی کے آج بھی ذہن میں اسی طرح موجود ہے۔جب عزیز موصوف امریکہ سے کمپیوٹر سائنس میں اعلیٰ تعلیم کے حصول کے بعد واقف زندگی کی حیثیت سے واپس ربوہ تشریف لائے تو وکالت وقف کو کے آغاز کے ساتھ ہی اس عالم گیر تحریک میں شامل واقفین کو اور واقفات کو کے مفصل ریکارڈ ان کی تعلیمی ، تربیتی، جسمانی اور روحانی نگرانی اور پیش رفت اور ریکارڈ کو اپ ڈیٹ رکھنے کے سلسلے میں شہید مرحوم کی رہنمائی اور مدد کی ضرورت پڑی۔آپ نے نہایت بشاشت اور نشاط خاطر کے ساتھ قدم قدم پر ہماری رہنمائی فرمائی اور کمپیوٹر کے دروازے وکالت وقف کو کے لئے کھول دیے۔اسی طرح حضور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے وقف ٹو کی تحریک کے سلسلے میں سلسلہ وار جو خطبات ارشاد فرمائے ان کے انگریزی ترجمے اور اسی طرح نصاب واقفین کو کے تراجم جو بالترتیب محترم پروفیسر میاں محمد افضل صاحب محترم پروفیسر و قار منظور بسرا صاحب اور محترم کنور اور میں صاحب نے کئے تھے کمپوز کروائے۔وکالت وقف کو کے دفتر میں سے کئی افراد کو کمپیوٹر کی ٹریننگ دی۔وکالت وقف کو کے اس وسیع اور لمحہ بہ لمحہ پھیلتے ہوئے کام کو منظم خطوط پر ایک