مرزا غلام قادر احمد — Page 146
146 دلی دُعاؤں کا زادِ راہ دے کر حضور ایدہ الودود نے آپ کو خدمت کے مقام محمود حاصل کرنے کے لئے ربوہ متعین فرمایا۔قادر نے عصر حاضر کی ایجاد کمپیوٹر کو اعلیٰ فنی مہارت کے ساتھ مسیح زماں اور آپ کی جماعت کی خدمت پر لگا دیا اور ایسی راہیں دکھا دیں جو صدقہ جاریہ کی طرح آپ کے نام اور کام ہمیشہ زندہ رکھیں گی۔محترم کنور اور لیس صاحب نے قادر کی شہادت کے بعد ڈان اخبار کو ایک مراسلہ لکھا جو ایک اچھا جائزہ ہے۔وو 20 سال قبل قادر نے ایبٹ آباد پبلک اسکول پشاور بورڈ میں ایف ایس سی میں اول پوزیشن حاصل کی۔پھر یہ کامیابی اُسے امریکہ کی ایک یونیورسٹی میں لے گئی جہاں اُس نے کمپیوٹر سائنس میں ایم ایس (MS) کی ڈگری حاصل کی۔شہید قادر بہت سے ڈالر کمانے کے کیریئر کو پس پشت ڈال کر پاکستان واپس چلا آیا۔یہاں بھی اُس نے ملٹی نیشنل غیر ملکی بینکوں میں قسمت آزمانے سے انکار کر دیا جو اُسے بڑی خوشی سے خوش آمدید کہنے کو تیار تھے۔کیونکہ وہ ذہین بھی تھا اور ڈسپلن کا پابند بھی تھا۔وہ نوجوانوں کو تربیت دینے کے لئے ایک چھوٹے سے قصبے میں چلا گیا جو اُس کی جائے شہادت سے زیادہ دور نہیں تھا۔وہ اتنا ہی کماتا تھا جو زندہ رہنے کے لئے ضروری ہے۔اس نے سوچا کہ اپنے کم وسائل کے اس قصبے کا قرض ادا کرنا ہے جہاں وہ پیدا ہوا تھا۔“ (ترجمہ) (Daily Dawn 21st April, 1999)