مرزا غلام قادر احمد — Page 123
123 انٹر کی تعلیم مکمل ہونے کی اٹھارہ انیس سال کی عمر میں نوجوانی کی شوخیوں کی بجائے ہر میدان میں اولیت حاصل کرنے والے قادر نے اپنا ایک قابل عزت مقام بنا لیا تھا۔جو احمدی طالب علموں کے لئے ایک نشان راہ ہے۔یہاں اُن کے وائس پرنسپل کا ایک مکتوب درج کرنا مناسب ہو گا جو اگر چہ شہادت کے بعد کا ہے۔مگر اسکول کی زندگی میں نمایاں کارکردگی کو واضح کرتا ہے۔( مکرم بشارت صاحب کا تعلق ہماری جماعت سے نہیں ہے۔) محترم مرزا مجید احمد صاحب! السلام علیکم ! اُمید ہے کہ آپ اور اہلِ خانہ بخیریت ہوں گے۔کل عزیز تسلیم احمد کے فون سے عزیز غلام قادر کے انتقال پر ملال کی جانسوز خبر ملی۔ابھی تک اس صدمہ کے اثر میں ہوں۔یقین نہیں آتا۔غلام قادر احمد کے نام کے ساتھ مرحوم لکھنے کی ہمت نہیں ہوتی۔بجا کہ وہ آپ کا نور چشم اور جگر گوشہ تھا۔مگر مجھے تو وہ بڑے بھائی محمود احمد سے بھی زیادہ عزیز تھا۔جب میں ہاؤس ماسٹر بنا۔تو محمود تو کالج میں تھا مگر غلام قادر ساتویں میں میرے پاس آیا اور مجھے اس کی تربیت پر فخر ہے کہ وہ اپنی قابلیت سے کالج کا Senior prefect بنا اور پھر بورڈ میں صوبہ بھر میں اوّل آیا۔سات سال تک میرا اُس کا قلبی تعلق رہا۔پھر عملی زندگی میں وہ بہت کامیاب تھا۔اپنی فیملی کے ساتھ اس نے دو مرتبہ Old Boys Reunion میں شرکت بھی کی۔ڈھیروں باتیں ہوئیں۔اس نے فخر سے مجھے بتایا کہ وہ جماعت کے لئے کام کر رہا ہے۔بلکہ اس نے اپنی زندگی وقف کر دی ہے۔اللہ کے کاموں میں کسے دخل، تقدیر، قسمت، رضائے الہی اور ربّ دو جہاں کو یہی منظور تھا۔صبر اور صرف راضی بہ رضا اللہ میاں اُسے جوار رحمت میں جگہ دے اور آپ سب کو صبر جمیل عطا کرے۔(آمین)