مرزا غلام قادر احمد — Page 114
114 1974ء کے مخالفانہ ابتلاء میں معصوم بچوں کا تاثر: ربوہ کے محفوظ ماحول میں رہتے ہوئے اندازہ نہیں ہوتا کہ ہمارے طالب علموں کو مخالفت کی ناسازگار ہواؤں کا کس طرح سامنا کرنا پڑتا ہے۔1974ء کے ابتلاء میں نو عمر طالبعلموں پر گھر سے باہر کیا گزری۔قادر تو بتانے کے لئے نہیں رہے البتہ ڈاکٹر مرزا سلطان احمد صاحب نے اپنے تاثرات بیان کئے ہیں۔ا بھی ٹرم ختم نہیں ہوئی تھی کہ 1974 ء کے فسادات شروع ہو گئے۔اخبار تھے کہ احمدیوں کے خلاف بیان بازی سے بھرے ہوئے۔جس کو دیکھو زہر اُگل رہا تھا۔ہر ایک کو ملک میں یہ فکر کہ میں اس زہر افشانی میں پیچھے نہ رہ جاؤں۔ہم تینوں بچے جن کی عمریں اُس وقت گیارہ (11) بارہ (12) سال تھیں وہاں پر اکیلے تھے۔ایبٹ آباد میں بھی احمدیوں کی املاک کو آگ لگائی گئی تھی۔ہمیں اسکول سے دھواں اُٹھتا دکھائی دے رہا تھا۔کچھ لڑکوں کی نظریں بدلیں۔لیکن اساتذہ کا برتاؤ ہم سے بہت اچھا تھا۔اس لئے ہمیں کسی نا خوشگوار واقعہ کا سامنا نہ کرنا پڑا۔ایک دن ہمارا انگلش کا لیکچر ہو رہا تھا۔کہ لڑکوں کی جوشیلی آواز میں سنائی دیں۔سرکلر ہماری کلاس میں پہنچا تو معلوم ہوا کہ ہنگاموں کی وجہ سے چھٹیاں شروع ہو گئی ہیں۔اور اسکول بند کیا جا رہا ہے۔بچوں میں عقل ہی کتنی ہوتی ہے۔ہم بھی بہت خوش ہوئے۔یہاں تک کہ ہاسٹل پہنچ کر میں اور قادر جوش میں گلے ملے۔گھر جانے کی خوشی جو تھی۔یہ علم نہ تھا کہ اسکول کے محفوظ ماحول سے باہر احمد یوں پر کس کس طرح سے قیامت ڈھائی جا رہی ہے۔ہم رات کو کامن روم میں بیٹھے ہوئے تھے کہ پرنسپل صاحب وہاں آ