غلام فاطمہ بیگم صاحبہؓ، میمونہ بیگم صاحبہؓ — Page 5
غلام فاطمه بیگم ، میمونہ بیگم 5 کریں۔چنانچہ ملک حسن محمد نے یہ ذمہ داری قبول کی اور قادیان گئے۔وہاں آپ نے جہاں ان دولڑکوں علی محمد اور عبدالرحمن کے حالات دریافت کئے ، وہیں خلیفہ وقت سے بھی دعا کی درخواست کی کیونکہ یہ دونوں لڑ کے بورڈنگ تعلیم الاسلام ہائی سکول میں تھے اور جماعت کے بچوں سے حضرت خلیفہ المسح الاول کا ایک خاص تعلق تھا چنانچہ اسی خط کی پشت پر آپ نے تحریر فرمایا: و متقی معلوم ہوتے ہیں ، خوش شکل ہیں، مجھے عزیز ہیں" نورالدین حضرت صاحب کی تحریر سے مولوی محمد فیض الدین صاحب ان رشتوں پر مطمئن ہو گئے۔اب حضرت خلیفہ المسیح الاول کی مہربانی اور شفقت کا نظارہ دیکھئے۔انہیں خیال آیا کہ عبدالرحمن تو سکھ فیملی سے احمدی ہوئے ' ہیں اور اکیلے ہیں انہیں بلا کر حوصلہ دیا اور فرمایا: تم یہ مت سمجھو کہ تمہارا باپ نہیں ہے، نور الدین تمہارا باپ ہے!" 1913ء کے جلسہ سالانہ پر مولوی محمد فیض الدین صاحب قادیان تشریف لائے اور آپ کی درخواست پر خود حضرت خلیفۃ ابیح الاول نے بیت النور میں دونوں نکاحوں کا اعلان فرمایا۔حق مہر بھی خود ہی مقرر فرمایا۔بابرکت احباب کی شمولیت اور دعاؤں کے ساتھ آپ کی دونوں