غیبت ۔ ایک بدترین گناہ — Page 67
67 کو پتہ چلے گا کہ یہ کیا چیز ہے۔پھر اپنے آپ کو مخاطب کر کے کہتے ہیں کچھ تو بولو۔اگر دروازہ بند ہو تو کسی کو کیا پتہ ہے کہ اندر ہیروں کی دکان ہے یا کوئلوں کی یا گند بلا بھرا پڑا ہے جب منہ کا دروازہ کھلے گا پھر پتہ چلے گا جب تک منہ میں بند رہے۔انسان کا کچھ پتہ نہیں چلتا۔جب بولے تو پتہ چلتا ہے کہ وہ کیا تھا۔صحبت صالح کے بارے میں سعدی حکایت بیان کرتے ہیں۔کہ حمام میں ایک میرے محبوب دوست نے مجھے ایک خوشبودار مٹی دی جس میں سے بہت خوشبو آ رہی تھی۔اور میری روح اندر تک تازہ ہوگئی۔میں نے اس مٹی سے کہا تیری خوشبو نے مجھے مست کر دیا۔ہوش جاتا رہا۔یہ تو بتاؤ تم مشک ہو یا عنبر ہو کیا ہو؟ اے مٹی ! تم اتنی خوشبو دار ہو۔تمہاری خوشبو آئی کہاں سے ہے؟ مٹی بولی میں تو نا چیز ہوں مگر کچھ عرصہ گلاب کی صحبت میں رہی ہوں۔پھولوں کے نیچے رہی ہوں۔ان پھولوں کی خوشبو مجھ سے آرہی ہے۔کتنی حکمت کی بات ہے۔کتنی گہری عقل کی بات ہے۔اچھے لوگوں کے ساتھ بیٹھو گے تو اچھے بنو گے۔