غیبت ۔ ایک بدترین گناہ

by Other Authors

Page 49 of 82

غیبت ۔ ایک بدترین گناہ — Page 49

49 ہونے دے اور مغفرت کی چادر کے نیچے اسے ڈھانپ لے تو ہم ایسا کرنے کی جرات کیسے کر سکتے ہیں۔کہ خدا تعالیٰ سے تو یہ کہیں کہ اے خدا! ہماری مغفرت فرما ہمارے عیوب کو چھپا اور انہیں ظاہر نہ کر اور خود سارے محلہ اور شہر میں جا کر دوسروں کے عیوب کی تلاش میں لگے رہیں۔خدا تعالیٰ تو اس صورت میں ہمیں یہ کہے گا کہ جو چیز تم اپنے بھائیوں اور بہنوں کے لئے پسند نہیں کرتے وہ میرے پاس مانگنے کیوں آگئے ہو۔بعض لوگ اپنی مجالس میں نیکی کی باتیں کرنے کی بجائے غیبت شروع کر دیتے ہیں۔غیبت کے معنی ہیں کہ انسان ایک دوسرے کے عیوب کا اس طرح ذکر کرے کہ اس میں کوئی دینی فائدہ نہ ہو مثلاً اگر کسی شخص میں کوئی کمزوری پائی جاتی ہے اور وہ دوسرا آدمی علیحدگی میں اس سے کہتا ہے بھائی تم میں مجھے فلاں کمزوری نظر آتی ہے اور اگر یہ بات درست ہے تو تم اپنی اصلاح کر لو تو یہ بھی اس کمزوری کا ذکر ہے۔لیکن اس میں ایک دینی فائدہ بھی ہے یعنی ایک بھائی کو اصلاح کی طرف توجہ دلائی گئی ہے اور اس میں اس کی بدنامی بھی نہیں۔لیکن اگر کسی شخص کے عیب کا مجالس میں ذکر کر کے اُسے بدنام کیا جائے جس میں کوئی دینی فائدہ نہیں تو اسے غیبت کہتے ہیں اور اس سے اللہ تعالیٰ نے منع فرمایا ہے۔چنانچہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:- لا يَغْتَبْ بَعْضُكُمْ بَعْضًا (الحجرات:13) یعنی تم میں سے بعض بعض کی غیبت نہ کیا کریں۔عورتوں کو خصوصا اللہ تعالیٰ نے اس سلسلہ میں حکم دیا ہے کہ وہ ایسے نا پسندیدہ امور سے پر ہیز کریں۔چنانچہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے :- فَالصَّالِحَاتُ قَنِتُتُ حَافِظَاتُ لِلْغَيْبِ بِمَا حَفِظَ اللَّهُ (النساء:35) یعنی نیک عورتیں فرمانبردار اور اللہ تعالیٰ کی مدد سے پوشیدہ امور کی محافظ ہوتی