غیبت ۔ ایک بدترین گناہ — Page 35
35 غیبت کا سننا حرام ہے: زبان کا سب سے بھاری فرض ہے۔(1) کلمہ توحید پڑھنا، نماز میں الحمد پڑھنا بھی فرض ہے۔(2) تو گویا اتنا قرآن پڑھنا بھی فرض ہوا۔(3) امر بالمعروف اور نہی عن المنکر بھی زبان کا ہی رکن ہے اس کے محرمات ہیں غیبت، تحقیر، جھوٹ، افتراء اس زبان کے ذریعہ تمام تلاوت قرآن و تلاوت احادیث کرے اور عام طور پر جو معرفت کے خزانے اللہ و رسول کی کتابوں میں ہیں پوچھ کریا بتا کر ان کی تہہ تک پہنچے۔معمولی باتیں کرنا مباح ہیں۔پسندیدہ باتیں اپنی باتوں میں استحباب کا رنگ رکھتی ہیں۔لَوْ كُنَّا نَسْمَعُ أَوْ نَعْقِلُ مَا كُنَّا في أصحب السَّعِير (الملك :11) اگر ہم حق کے شنوا ہوتے تو دوزخ میں کیوں جاتے۔اس سے ثابت ہوا کہ حق کا سننا فرض ہے اور غیبت کا سننا حرام ہے۔(بدر 30 دسمبر 1909 ء صفحہ 3-4، حقائق الفرقان جلد 4 صفحہ 130) کسی دوسرے کو حقارت سے نہ دیکھو بلکہ مناسب یہ ہے کہ اگر کسی کواللہ تعالیٰ نے علم ، طاقت اور آبرو دی ہے تو اس کے شکریہ میں جو اس کی نعمت سے متمتع نہیں ہے مدد کرے، نہ یہ کہ تمسخر اُڑائے۔یہ منع ہے چنانچہ اس نے فرمایا :- لَا يَسْخَر قَوْمٌ مِنْ قَوْمٍ عَسَى أَنْ يَكُونُوا خَيْرًا مِنْهُمْ (بدر 18 فروری 1909 صفحہ 2، حقائق الفرقان صفحہ 4 جلد چہارم)