غیبت ۔ ایک بدترین گناہ

by Other Authors

Page 14 of 82

غیبت ۔ ایک بدترین گناہ — Page 14

14 فَظًّا غَلِيظَ الْقَلْبِ لَا نُفَضُّوا مِنْ حَوْلِكَ ( آل عمران : 160) ترجمہ: (اور اے محمدؐ ) تو اس عظیم الشان رحمت کی وجہ سے (ہی ) جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے ( تجھے دی گئی) ہے ان کے لئے نرم واقع ہوا ہے اور تو بد اخلاق اور سخت دل ہوتا تو یہ لوگ تیرے گرد سے تتر بتر ہو جاتے۔نرم دلی اور خوش اخلاقی اعلیٰ ترین صفات ہیں جو انسانی معاشرہ کو باہم مربوط کرتی ہیں جبکہ بداخلاقی جس میں غیبت مہلک ترین ہے اس ربط کو نقصان پہنچاتی ہے اسی لئے با ہمی ملاطفت اور نرم دلی سے پیش آنے کی تعلیم دی۔شیطان کا ساتھ بہت برا ساتھ : وَمَنْ يَكُنِ الشَّيْطَنُ لَهُ قَرِيْنًا فَسَاءَ قَرِينًا (النساء : 39) ترجمہ: اور جس (شخص) کا ساتھی شیطان ہو ( وہ یاد رکھے کہ ) وہ بہت ہی برا ساتھی ہے۔شیطان سے دوستی گویا انسانیت سے دشمنی کے مترادف ہے شیطان سے دوستی گویا اخلاق سیئہ کی صفت پیدا کرنے کی موجب بنتی ہے۔اس کے نتیجہ میں انسان گناہوں کی دلدل میں دھنستا چلا جاتا ہے کئی ایسے گمان دل میں پیدا ہوتے ہیں جو اللہ تعالیٰ کی نظر میں انتہائی نا پسندیدہ ہیں اور وہ گمان گناہ بن جاتے ہیں۔غیبت بھی ایک گمان ہے ایک بدترین گناہ۔برائی اگر جڑ پکڑ جائے تو نیکیوں کا درخت بے برگ و بار اور خزاں رسیدہ ہو جائے گا۔قرآن کریم نے غیبت کی نفرت کو دلوں میں بٹھانے کے لئے بڑا موثر اسلوب اختیار کیا ہے۔اور انسان کی فطرت میں ایک خود کار نظام رکھ دیا ہے۔اُس کی فطرت (اگر مسخ نہ ہو گئی ہو ) اُس کی راہنمائی کرتی ہے۔