غلبہء حق — Page 46
۳۶ رد اگر معجزانہ پیدائش سے یہ مراد ہے کہ حضرت مسیح بن باپ پیدا ہوئے تو قرآن کریم نے یہ کہیں نہیں لکھا ، اگر کہا جائے کہ اہل اسلام کا عقیدہ یہ ہے تو دعویٰ قرآن کریم سے دلیل دینے کا تھا۔مگر یہ صرف قرآن کریم میں یہ ذکر نہیں کہ مسیح بن باپ پیدا ہوئے بلکہ کوئی حدیث بھی ایسی نہیں ملتی یا اسی طرح فاروقی صاحب کے والد بزرگوار اور مولوی محمد علی صاحب کے خسر مکرم ڈاکٹر بشارت احمد صاحب نے بھی حضر پیچ کی بن باپ ولادت کے عقیدہ کے خلاف یہ لکھا کہ :۔" د ہم کسی عورت کی نیکی کے ادعا کے باوجود کبھی نہیں مان سکتے کہ وہ بغیر کسی مرد کے حاملہ ہوگئی ہے۔خواہ وہ عورت کتنی ہی پارسا اور صاحب عفت و عصمت ہو اور خواہ وہ بیت المقدس اور کعبہ کے اندر ہی رہتی ہو، وہ لاکھ دفعہ کسے کہ میں بغیر مرد کے حاملہ ہوئی ہوں مگر ہم اسے جھوٹا ہی سمجھیں گے۔دنیا کی کوئی عدالت خواہ مسلمان ہو یا عیسائی کبھی اس کے حق میں فیصلہ نہیں دے سکتی۔پس ایک حاملہ عورت پر حسن ظن کا تقاضا یہی ہے کہ ہم یہ سمجھیں کہ اس کا شوہر ضرور موجود ہے جس سے وہ حاملہ ہوئی ہے۔تو یہ کہتا ہے کہ اس کا کوئی شوہر نہیں تحرف عام میں اس کی عزبات پر حملہ کرنے والا ٹھہرے گا۔(ولادت مسیح ص۳۲)