غلبہء حق — Page 45
قرآن مجید کے پڑھنے سے ایسا ہی ثابت ہوتا ہے کہ مسیح بن باپ ہیں اور اس پر کوئی اعتراض نہیں ہو سکتا۔خدا تعالیٰ نے کمثل ادم جو فرمایا اس سے بھی ظاہر ہے کہ اس میں ایک ہجویہ قدرت ہے جس کے واسطے آدم کی مثال کا ذکر کرنا پڑا۔پھر فرماتے ہیں :- " دید ۱۶ مٹی شاء ص۳) ہمارا ایمان اور اعتقاد یہی ہے کہ مسیح ہے باپ تھے۔اور اللہ تعالیٰ کو سب طاقتیں ہیں۔نیجیری جو یہ ثابت کرتے ہیں کہ ان کا باپ تھا وہ بڑی غلطی پر نہیں۔ایسے لوگوں کا خدا مردہ خدا ہے اور ایسے لوگوں کی دُعا قبول نہیں ہوتی جو خیال کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کسی کو بے باپ پیدا نہیں کر سکتا۔ہم ایسے آدمی کو دائرہ اسلام سے خارج الحکم ۲۴ جون ۱۹م) سمجھتے ہیں۔مولوی محمد علی صاحب کا نیا عقیده مسیح کا باپ تھا لاہور میں آکر مولوی محمد علی صاحب نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے عقیدہ ۱ رخود اپنے پہلے عقیدہ کے خلاف یہ نیا عقیدہ اختیار کر لیا کہ حضرت عیسی علیہ السلام اپنے باپ یوسف کے نطفہ سے تھے۔چنانچہ آپ نے انگریزی ترجمہ القرآن اور اردو تفسیر بیان القرآن میں اس عقیدہ کا اظہار کیا ہے اور یوسف نجار کو ان کا باپ قرار دیا ہے۔پھر آپ اپنی کتاب حقیقت مسیح کے صد پر لکھتے ہیں :-