غلبہء حق

by Other Authors

Page 34 of 304

غلبہء حق — Page 34

اس بحث میں مولوی صاحب موصوف نے الہی نصرت کو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے دعوئی کی صداقت میں پیش کیا تھا۔معترض نے اس پر تنقید کرتے ہوئے لکھا کہ خلفاء ثلاثہ اور سبطین تو شہید ہو گئے۔ان کی تو کوئی نصرت نہ ہوئی در مسیح علیہ السلام بھی مصلوب ہوئے اور بنی اسرائیل کے شیر خوار بچے بھی قتل کیے گئے۔اس کے جواب میں مولوی محمد علی صاحب تحریر فرماتے ہیں کہ خواجہ صاحب آپ ایک مدعی نبوت کے مقابلہ میں نکلے ہیں۔سو ان میں سوائے مسیح علیہ السلام کے بانی مدعی نبوت کون کون ہیں۔کیا بنی اسرائیل کے شیر خوار بچے مدعی نبوت ہیں۔کیا خلفاء ثلاثہ اور سبطین رامام حسن اور سید این مدعی نبوت ہیں۔اگر نہیں تو پھر ان باتوں کو امر زیر بحث سے کوئی تعلق نہیں۔دیکھئے اس بحث میں مولوی صاحب موصوف نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو محدث کی حیثیت میں پیش نہیں کیا تھا۔خلفاء ثلاثہ اور سبطین کی محدثیت سے کس کو انکار ہو سکتا ہے۔حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو تو خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے محدث قرار دیا تھا۔میں اس بحث میں مولوی محمد علی صاحب نے حضرت اقدس کو محض مجدد اور محض محدث کی حیثیت میں پیش نہیں کیا بلکہ مدعی نبوت کی حیثیت میں پیش کیا ہے اور اس زمرہ میں داخل قرار دیا ہے۔جس کے فرد حضرت عیسی علیہ اسلام ہیں اور خلفاء ثلاثہ اور سبطین کو اس زمرہ سے خارج بیان کر کے خوب واضح کر دیا ہے کر یہ مضمون لکھتے وقت مولوی محمد علی صاحب حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو تدعي نبوت مانتے تھے۔اس زمانہ میں مولوی محمد علی صاحب آیت قرانیه اهـ الصراط المستقيم صراط الذین انعمت علیم اور آیت من يطع الله والرسول فاولئك مع الذین انعم الله عليهم من النبيين و الصديقين والشهداء والصالحین کی روشنی میں ہی تلقین فرماتے تھے کہ :-