غلبہء حق

by Other Authors

Page 32 of 304

غلبہء حق — Page 32

۳۲ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے خود بھی اس عدالت میں، اپنے آپ کو ظلی نبی فرا دیا تھا۔اگر حضرت مسیح موعود کے نزدیک ان کی خلقی نبوت ، نبوت نہ ہوتی تو آپ کا مذہبی فرض تھا کہ اپنے اس مرید کو سمجھاتے کہ تم مجھے مدعی نبوت کیوں قرار دے رہے ہو اور تبرح میں اس سے کہلواتے کہ اسے آپ کو مدعی نبوت قرار دینے میں غلطی لگی ہے۔پس عدالت کا یہ ریکارڈ گواہ ہے کہ حضرت اقدس اپنی زندگی کے ایام میں جماعت میں مدعی نبوت سمجھے جاتے تھے اور آپ کو بھی مدعی نبوت ہونے سے انکار نہیں تھا۔اسی لیے آپ کے ایک ممتاز مرید نے آپ کو عدالت میں باقرار صالح مدعی نبوت قرار دیا۔اسی طرح مولوی محمد علی صاحب مرحوم نے ریویو آف ریلیجنز کی ایڈیٹری کے زمانہ میں خواجہ غلام الثقلین سے تحریری بحث میں بھی حضرت مرزا صاحب کو مدعی نبوت کی حیثیت میں ہی پیش کیا ہے نہ کہ مدعی محدثیت کی حیثیت میں پہنا نچہ وہ لکھتے ہیں :۔نمبرا چار اصول خواجہ غلام الثقلین نے اپنی طبیعت سے ایجاد کیے جن کی رو سے وہ حضرت مرزا صاحب کو پر کھنا چاہتے ہیں۔خواجہ غلام الثقلین نے ان اصول کے قائم کرتے ہیں جن کی رُو سے وہ کسی مدعی نبوت کے سچ یا جھوٹ کو پرکھنا چاہتے ہیں۔بڑی غلطی کھائی در یویو آف ریلیجنز جلد ۲ صفحه ۳۹۵) ہے " نمبر ۲۔" مجھے تعجب آتا ہے کہ اعتراض کرتے وقت تو عیسائی اور اس سلسلہ کے مخالف بڑی بڑی باریکیاں نکالتے ہیں، مگر اس موٹی بات کو نہیں سمجھتے کہ ایک مدعی نبوت میں