غلبہء حق — Page 278
۲۷۸ کیا یہ تیرا خیال ہے کہ میں کسی بڑ ہی قوم کا ہوں۔یا میرے پاس زرد جواہر ہیں۔یا میری قوت بازو بہت لوگ ہیں یا میں بہت بڑا رئیس یا بادشاہ ہوں یا بڑا زئی مسلم انسان ہوں ، سجادہ نشین ہوں یا فقیر ہوں اس لیے مجھکو اس رسول کے ماننے کی کوئی حاجت نہیں ؟ نیز مت پر لکھا ہے :- غرضیکہ ہر ایک قوم ایک نبی کی منتظر ہے اور اس کے لینے ہے بھی یہی مقرر کیا جاتا ہے۔ہمارے پیارے رسول محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے جو نشانات اس نبی کی پہچان کے بتائے ہیں اور اس کے پہچاننے کے لیے جو جو آسانیاں ہمارے لیے پیدا کردی ہیں اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ہمارے رسول کا مرتبہ کس قدر بلند اور بالا تھا۔پھر مت اور مت پر لکھا ہے کہ :- ر یہ دیکھنا چاہیئے کہ اس زمانہ یں کسی نبی کی ضرورت ہے یا نہیں۔اس زمانہ کو اچھا کہا جائے یا برا جہاں تک دیکھنا جاتا ہے اس زمانہ سے بڑھ کر دنیا میں فسق ونجور کی ترقی نہیں ہوئی۔تمام دنیا ایک زبان ہو کر چلا اٹھی ہے کہ گناہوں کی حد ہو گئی ہے۔یہی زمانہ ہے کہ دنیا میں ایک مامور کی حد سے زیادہ ضرورت ہے " یہ وہ مضمون ہے جس پر مولوی محمد علی صاحب نے بھی پر زور ریویو لکھنا تھا جس کا ایک اقتباس یہ ہے :-