غلبہء حق — Page 265
۲۶۵ لا یخلف المیعاد اور آیت دما كنا معذبين حتى نبعث رسولا دچ کرنے کے بعد تحریر فرماتے ہیں :- ان آیات کو اگر کوئی شخص قاتل ، در غیر کی نظر سے دیکھے تو میں کیوں کر کہوں کہ وہ اس بات کو نہ سمجھ جائے ، کہ خدا تعالیٰ اس امت کے لیے خلافت دائمی کا صاف وعدہ فرماتا ہے۔اگر خلافت دائمی نہیں تھی تو شریعت موسوی کے خلیفوں سے تشبیہ دنیا کیا معنی رکھتا تھا او خلافت را شده صرف نہیں برس تک رہ کر پھر ہمیشہ کے لیے اس کا دور ختم ہو گیا تھا تو اس سے لازم آتا ہے کہ خدا تعالیٰ کا ہرگز یہ ارادہ نہ تھا کہ اس امت پر ہمیشہ کے لیے ابواب سعادت مفتوح رکھے " ر شهادة القرآن منه) پس شیعوں کے مقابلہ میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے سر الخلافہ میں صرف یہ بتایا ہے کہ اگر حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کو ہی خلیفہ اول اور اس آیت کا اکمل مصداق تسلیم نہ کیا جائے تو حضرت علی کی خلافت ثابت ہی نہیں ہو سکتی کیونکہ اس آیت کا ایک حصہ یہ بھی ہے کہ خدا خلاقت کے ذریعہ خوف کو امن سے بدل دیگا اور حضرت علی اس امن والے حصہ کے مصداق ثابت نہیں ہوئے۔کیونکہ ان کے زمانہ میں بدامنی تو پیدا ہوئی مگر امن قائم نہ ہو سکا۔ویسے حضرت مسیح موعود علیہ السلام حضرت علی رضا کی خلافت کو برحق تسلیم کرتے ہیں بلکہ آپ نے اس کتاب میں دعا کی ہے اللهُ وَالِ مَنْ والاهُ وعَادٍ مَنْ عَادَال : رسره الخلافۃ ص۳) یعنی اسے اللہ جو حضرت علی سے محبت رکھتا ہے تو اُس سے