غلبہء حق — Page 264
ثابت کیا ہے اور دوسرے خلفاء پر اُن کی افضلیت کا ثبوت دیا ہے اس میں یہ ثابت کرنا مقصود نہیں تھا کہ دوسرے خلفاء کی خلافت کلی طور پر آیت استخلاف کے ماتحت نہیں تھی حضرت مسیح موعود علیہ السلام سر الخلافہ کے من پر بطور الزام خصم تحریر فرماتے ہیں :- حضرت صدیق رضہ کی شان تمام صحابہ میں سے اعظم وارفع تھی اور بلا ریب وہی تخلیفہ اول ہیں اور انہی کے بارہ میں آیات خلافت نازل ہوئی تھیں۔اور اگر تم کسی اور کو اُن کے زمانہ کے بعد اس کا مصداق سمجھتے ہو تو واضح پیشگوئی لاؤ۔اگر تم سچے ہو۔(ترجمه از عربی عبارت) اگر اس عبارت کے یہ معنی لیے جائیں کہ حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کے سوا ان کے بعد اس موعودہ خلافت کا کوئی مصداق نہیں تو یہ امر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی دوسری تحریرات کے صریح خلاف ہے۔حضور شہادۃ القرآن میں آیت ہذا نقل کرنے کے بعد تحریر فرماتے ہیں :- به آیت در حقیقت اس دوسری آیت انا نحن نزلت الذكر وانا له لحافظون کے لیے بطور تفسیر کے واقعہ ہے اور اس سوال کا جواب دے رہی ہے کہ حفاظت قرآن کیونکر اور کسی طور سے ہوگی۔سو خدا تعالیٰ فرماتا ہے کیں اس نبی کریم کے خلیفے وقتاً فوقتاً بھیجتا رہوں گا۔ر شهادة القرآن ص ۴ پھر آیت استخلاف کے ساتھ آیت ویزال الذين كفر و اتصيبهم بما صنعوا قارعة اور تحل قريباً من دارهم حتى يأتى وعد الله ان الله